الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي خَرْصِ النَّخْلِ وَالْعِنَبِ باب: کھجور اور انگور کی فصل کا اندازہ لگانے کا بیان
حدیث نمبر: 3421
عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا خَرَصْتُمْ فَجُذُّوا، وَدَعُوا الثُّلُثَ، فَإِنْ لَمْ تَجُذُّوا أَوْ تَدَعُوا فَدَعُوا الرُّبُعَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدناسہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم فصل کا اندازہ کر لو تو اس کے کٹنے کے بعد (زکوۃ کی یہ مقدار وصول کرو، لیکن) ایک تہائی چھوڑ دو، اگر تم اتنا نہ چھوڑو تو ایک چوتھائی چھوڑ دو۔
وضاحت:
فوائد: … اس باب کی احادیث کھجور اور انگور وغیرہ کی فصل کا اندازہ لگانے کی مشروعیت پر دلالت کرتی ہیں شافعی اور احمد کے نزدیک ان فصلوں کا اندازہ لگانا مستحب ہے۔ مالک، شریح اور ابو جعفر اور بعض ظاہریہ کے نزدیکیہ واجب ہے۔ نودی نے کہا ہے کہ کھجور اور انگور وغیرہ کی فصل جن میں عشر و اجب ہوتا ہے۔ ان میں فصل کا اندازہ کر لینا مستحب ہے۔ اس باب میں زمیندار لوگوں کے لیے ایک بڑی سہولت آمیز رخصت کا بیان ہے اور وہ یہ کہ حکومت کے نمائندے فصل تیار ہو چکنے کے بعد فصل کا اندازہ لگائیں اور پھر دسویںیا بیسویں حصے کی روشنی میں زمیندار کے لیے زکوۃ کی کل مقدار کا تعین کر دیں، اس طرح سے زمیندار لوگ ساری فصل کے باریک اور مجموعی حساب سے محفوظ ہو جاتے ہیں، کیونکہ کئی فصلیں ایسی ہیں کہ ان کی کچھ مقدار جانوروں کو کھلا دی جاتی ہیں، کچھ مقدار مالک اپنے گھر میں رکھ لیتا ہے، کچھ مقدار موچی اور حجام لوگوں کو دے دی جاتی ہے اور کچھ مقدار تاجروں کو فروخت کر دی جاتی ہے۔