الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ زَكَاةِ الزَّرْعِ وَالثِّمَارِ باب: کھیتیوں اور پھلوں کی زکوۃ کا بیان
حدیث نمبر: 3415
عَنِ الْعَلَاءِ بْنِ الْحَضْرَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهَ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْبَحْرَيْنِ أَوْ أَهْلِ هَجَرَ شَكَّ أَبُو حَمْزَةَ قَالَ: كُنْتُ آتِي الْحَائِطَ، يَكُونُ بَيْنَ الْإِخْوَةِ فَيُسْلِمُ أَحَدُهُمْ فَآخُذُ مِنَ الْمُسْلِمِ الْعُشْرَ، وَمِنَ الْآخَرِ الْخَرَاجَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
۔ سیدنا علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بحرین یا ہجر کی طرف بھیجا تھا، میں جب ایسے باغ میں جاتا، جو مختلف بھائیوں کا ہوتا اور ان میں سے ایک مسلمان ہو چکا ہوتا تو مسلمان سے دسواں حصہ زکوۃ لیتا اور دوسروں سے خراج وصول کرتا تھا۔
وضاحت:
فوائد: خراج: وہ جزیہ جو ذمیوں سے وصول کیا جاتا ہے۔ یہ حدیث تو ضعیف ہے، لیکن ذمی لوگوں سے جزیہ وصول کرنا ایک شرعی مسئلہ ہے، اس کی ماہانہ یا سالانہ مقدار کا فیصلہ حاکمِ وقت کرے گا، ویسے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اَنَّ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اَمَرَہٗاَنْیَّاْخُذَ مِنْ کُلِّ حَالِمٍ دِیْنَارًا۔ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو حکم دیا تھا کہ وہ ہر بالغ سے ایک دینار وصول کریں)۔ (ابوداود: ۳۰۳۸، ترمذی: ۶۲۳، نسائی: ۵/ ۲۶، ابن ماجہ: ۱۸۰۳)
ایک دینار ساڑھے چار (4) ماشے سونے کا ہوتا ہے۔ یہ خراج سالانہ فی کس کے لحاظ سے لیا جاتا تھا۔ (عبداللہ رفیق)
ایک دینار ساڑھے چار (4) ماشے سونے کا ہوتا ہے۔ یہ خراج سالانہ فی کس کے لحاظ سے لیا جاتا تھا۔ (عبداللہ رفیق)