حدیث نمبر: 3414
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) يَرْفَعُهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسَةِ أَوْسَاقٍ صَدَقَةٌ وَالْوَسْقُ سِتُّونَ مَخْتُومًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

۔ (دوسری سند) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: پانچ وسق سے کم (فصل) پر کوئی زکوۃ نہیں ہے اور ایک وسق ساٹھ مہرزدہ صاع کا ہوتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: اس صاع کے اوپر والے حصے پر امراء کی طرف سے مہر لگائی جاتی تھی، تاکہ اس کی مقدار کو کم یا زیادہ نہ کر دیا جائے۔ زمین سے فصلیں پیدا کرکے انسان کو رزق مہیا کرنا اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے، اللہ تعالیٰ نے اس احسان کا بدلہ یوں طلب کیا ہے کہ زرعی پیدا وار کا دسواںیا بیسواں حصہ بطورِ زکوۃ اس کی راہ میں دیا جائے، جو پیدا ہونے والی کل فصل کے مقابلے میں انتہائی کم مقدار ہے۔
ان احادیث سے معلوم ہوا کہ فصل میں زکوۃ کو لاگو کرنے کے لیے ضروری ہے کہ وہ پانچ وسق ہو، اس کو نصابِ زکوۃ کہتے ہیں، اس کی تفصیلیہ ہے کہ ایک وسق میں (۶۰) صاع ہوتے ہیں، اس طرح پانچ اوساق کی کل مقدار (۳۰۰)صاع ہوگئی، جبکہ ایک صاع کا وزن تقریبا دو کلو سو گرام ہوتا ہے، اس طرح پانچ وسق کا کل وزن پندرہ من اورتیس کلو گرام بن جاتا ہے، معلوم ہوا کہ فصلوں کا نصابِ زکوۃ (۱۵) من اور (۳۰) کلو گرام ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3414
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح دون قوله: ((والوسق ستون مختوما)) وھذا اسناد منقطع، انظر الحديث بالطريق الاول أخرجه ابوداود: 1559، وابن ماجه: 1832، والنسائي: 5/ 40، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11564 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11585»