حدیث نمبر: 3407
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِي جَمَعَ فِيهِ فَرَائِضَ الصَّدَقَةِ، قَالَ: ((وَفِي الرِّقَاقِ رُبُعُ الْعُشُورِ، فَإِذَا لَمْ يَكُنِ الْمَالُ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةَ دِرْهَمٍ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تحریر، جو نصاب ِ زکوۃ پر مشتمل تھی، میں یہ بھی تھا: چاندی میں چالیسواں حصہ زکوۃ فرض ہے، اگر چاندی ایک سو نوے درہم ہو تو اس میں زکوۃ فرض نہیں، ہاں اگر اس کا مالک چاہے تو ٹھیک ہے۔

وضاحت:
فوائد: ان احادیث سے معلوم ہوا کہ چاندی کا نصاب پانچ اوقیے ہے، ایک اوقیہ (۴۰) درہم کا ہوتا ہے، اس طرح پانچ اوقیوں کا وزن (۲۰۰) درہم اور (۲۰۰) درہم کا وزن ساڑھے باون تولے بنتا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3407
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا حديث طويل أخرجه البخاري مفرقا: 1448، 1450، 1451، 1453، 2487، 3106، 5878، 6955(اانظر: 72 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 72»