حدیث نمبر: 3398
عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، أَنَّهُ حَجَّ مَعَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَتَاهُ أَشْرَافُ أَهْلِ الشَّامِ فَقَالُوا: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! إِنَّا أَصَبْنَا رَقِيقًا وَدَوَابَّ فَخُذْ مِنْ أَمْوَالِنَا صَدَقَةً تُطَهِّرُنَا بِهَا وَتَكُونُ لَنَا زَكَاةً، فَقَالَ: هَذَا شَيْءٌ لَمْ يَفْعَلْهُ اللَّذَانِ قَبْلِي وَلَكِنِ انْتَظِرُوا حَتَّى أَسْأَلَ الْمُسْلِمِينَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

حارثہ بن مضرب کہتے ہیں: میں نے سیدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی معیت میں حج کیا، اہل شام کے معزز لوگ آئے اور انھوں نے کہا: اے امیر المومنین! ہم غلاموں اور جانوروں کے مالک بنے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ہم سے ہمارے ان مالوں کی زکوۃ وصول کریں تاکہ ہمارے مال پاک ہو جائیں اور یہ چیز ہمارے لیے باعث ِ تزکیہ ہو۔ لیکن آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھ سے پہلے والی دو شخصیات(رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ ) نے یہ عمل نہیں کیا، لیکن تم انتظار کرو تاکہ میں دوسرے مسلمانوں سے اس بارے میں مشورہ کر لوں۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3398
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح أخرجه ابن خزيمة: 2290، والحاكم: 1/ 400، واللبيھقي: 4/ 118، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 82، 218 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 218»