حدیث نمبر: 3394
عَنْ مُسْلِمِ بْنِ شُعْبَةَ أَنَّ عَلْقَمَةَ اسْتَعْمَلَ أَبَاهُ عَلَى عِرَافَةِ قَوْمِهِ، قَالَ مُسْلِمٌ: فَبَعَثَنِي أَبِي إِلَى مَصْدَقَتِهِ فِي طَائِفَةٍ مِنْ قَوْمِي، قَالَ: فَخَرَجْتُ حَتَّى آتِي شَيْخًا، يُقَالُ لَهُ سَعْرٌ، فِي شِعْبٍ مِنَ الشِّعَابِ، فَقُلْتُ: إِنَّ أَبِي بَعَثَنِي إِلَيْكَ لِتُعْطِيَنِي صَدَقَةَ غَنَمِكَ، فَقَالَ: أَيُّ ابْنَ أَخِي وَأَيَّ نَحْوٍ تَأْخُذُونَ؟ فَقُلْتُ: نَأْخُذُ أَفْضَلَ مَا نَجِدَ، فَقَالَ الشَّيْخُ إِنِّي لَفِي شُعَيْبٍ مِنْ هَذِهِ الشِّعَابِ فِي غَنَمٍ لِي إِذْ جَاءَنِي رَجُلَانِ مُرْتَدِفَانِ بَعِيرٍ فَقَالَا: إِنَّا رَسُولَا رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بَعَثَنَا إِلَيْكَ لِتُؤْتِيَنَا صَدَقَةَ غَنَمِكَ، قُلْتُ: وَمَا هِيَ؟ قَالَا: شَاةٌ، فَعَمَدْتُ إِلَى شَاةٍ قَدْ عَلِمْتُ مَكَانَهَا مُمْتَلِئَةً مَخْضًا وَشَحْمًا، فَأَخْرَجْتُهَا إِلَيْهِمَا، فَقَالَا: هَذِهِ شَافِعٌ، وَقَدْ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَأْخُذَ شَافِعًا وَالشَّافِعُ الَّتِي فِي بَطْنِهَا وَلَدُهَا، قَالَ: فَقُلْتُ: فَأَيَّ شَيْءٍ تَأْخُذَانِ؟ قَالَا: عَنَاقًا، أَوْ جَذَعَةً أَوْ ثَنِيَّةً، قَالَ فَأَخْرَجَ لَهُمَا عَنَاقًا، قَالَ: فَقَالَا: ادْفَعْهَا إِلَيْنَا فَتَنَاوَلَاهَا وَجَعَلَاهَا مَعَهُمَا عَلَى بَعِيرِهِمَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

مسلم بن شعبہ کہتے ہیں: علقمہ نے ان کے والد (شعبہ) کو ان کی قوم پر عامل مقرر کیا، پھر میرے والد نے مجھے میری قوم کے ایک حصہ پر زکوۃ کی وصولی کے لیے روانہ کیا، میں ایک بزرگ کے ہاں پہنچا، اس کو سِعْر کہتے تھے، وہ ایک گھاٹی میں مقیم تھا، میں نے اسے کہا: میرے والد نے مجھے آپ کی طرف بھیجا ہے، تاکہ آپ اپنی بکریوں کی زکوۃ مجھے جمع کرادیں۔ انہوں نے کہا: بھتیجے! تم بطور زکوۃ کس قسم کا جانور قبول کرو گے؟ میں نے کہا: ہم سب سے افضل اور بہترین جانور لیں گے۔ پھر اس نے کہا: میں انہی گھاٹیوں میں سے ایک گھاٹی میں مقیم تھا کہ دو شتر سوار میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نمائندے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں آپ کے پاس بھیجا ہے تاکہ آپ ہمیں اپنی بکریوں کی زکوۃ جمع کرادیں۔ میں نے پوچھا: کتنی زکوۃ جی؟ انہوں نے کہا: ایک بکری۔ میں نے ایک ایسی بکری نکالی، جو دودھ اور چربی سے بھری ہوئی تھی، لیکن انہوں نے کہا: یہ تو حاملہ ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں ایسا جانور لینے سے منع فرمایا ہے۔ میں نے کہا: تو پھر آپ کیسی بکری لیں گے؟ انہوں نے کہا: عَنَاق یا جَذَعہ یا ثَنِیّہ دے دو، جب میں نے عَنَاق بکری نکالی تو انھوں نے کہا: یہ ہمیں دے دو، پس انھوں نے وہ وصول کی اور اپنے ساتھ اونٹ پر رکھ کر چلے گئے۔

وضاحت:
فوائد: عَنَاق: ایک سال سے کم بکری کا بچہ
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3394
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، عمرو بن أبي سفيان أخرجه ابوداود: 1582، والنسائي: 5/ 33 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15427 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15505»