الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
اجْتِنَابُ كَرَائِمِ أَمْوَالِ النَّاسِ فِي الزَّكُوةِ وَمَا يُجْزِئُ مِنَ الْغَنَمِ وَمَنْ أَدَّى أَفْضَلَ مِنَ الْوَاجِبِ باب: زکوۃ وصول کرتے ہوئے لوگوں کے قیمتی مال سے اجتناب کرنے، بکریوں میں سے¤کس قسم کی بکری کا کفایت کرنے اور زکوۃ کی واجب مقدار سے افضل یا زائد دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3392
عَنِ الصُّنَابِحِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: رَأَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي إِبِلِ الصَّدَقَةِ نَاقَةً مُسِنَّةً، فَغَضِبَ وَقَالَ: ((مَا هَذِهِ؟))، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! إِنِّي ارْتَجَعْتُهَا بِبَعِيرَيْنِ مِنْ حَاشِيَةِ الصَّدَقَةِ، فَسَكَتَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدنا صنابحی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کے اونٹوں میں ایک بیش قیمت اونٹنی دیکھی تو غصے میں آ کر فرمایا: یہ کیا ہے؟ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے صدقہ کے دو کم تر اونٹ دے کر ان کے عوض یہ لی ہے۔ یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خاموش رہے۔