الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
اجْتِنَابُ كَرَائِمِ أَمْوَالِ النَّاسِ فِي الزَّكُوةِ وَمَا يُجْزِئُ مِنَ الْغَنَمِ وَمَنْ أَدَّى أَفْضَلَ مِنَ الْوَاجِبِ باب: زکوۃ وصول کرتے ہوئے لوگوں کے قیمتی مال سے اجتناب کرنے، بکریوں میں سے¤کس قسم کی بکری کا کفایت کرنے اور زکوۃ کی واجب مقدار سے افضل یا زائد دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3391
عَنْ سُوَيْدِ بْنِ غَفَلَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: تَانَا مُصَدِّقُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ فَجَلَسْتُ لَهُ فَسَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: إِنَّ فِي عَهْدِي أَنْ لَا أَخُذَ مِنْ رَاضِعِ لَبَنٍ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ وَأَتَاهُ رَجُلٌ بِنَاقَةٍ كَوْمَاءَ، فَقَالَ خُذْهَا فَأَبَى أَنْ يَأْخُذَهَاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدناسوید بن غفلہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا زکوۃ وصول کرنے والا عامل ہمارے پاس آیا، میں اس کے پاس گیا، وہ یہ کہنے لگا: میری ذمہ داری ہے کہ میں دودھ پیتا جانور نہ لوں، (دوسری بات یہ ہے کہ) زکوۃ سے بچنے کے لیے نہ الگ الگ ریوڑوں کو اکٹھا کیا جائے اور نہ اکٹھے ریوڑ کو الگ الگ کیا جائے، اتنے میں ایک آدمی ان کے ہاں بلند کوہان والی شاندار اونٹنی لے کر آیا،لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کر دیا۔