الفتح الربانی
كتاب الزكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ زَكَاةِ الْبَقَرِ وَمَا جَاءَ فِي الْوَقْصِ باب: گائے اور وقص کی زکوۃ کے بارے میں بیان
حدیث نمبر: 3388
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَمْرِو (بْنِ دِينَارٍ) عَنْ طَاوُسٍ أُتِي مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِوَقْصِ الْبَقَرِ وَالْعَسَلِ، فَقَالَ: لَمْ يَأْمُرْنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِيهَا بِشَيْءٍ، قَالَ سُفْيَانُ: الْأَوْقَاصُ مَا دُونَ الثَّلَاثِينَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
طاؤس کہتے ہیں: سیدنامعاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں گائے اور شہد کا وقص زکوۃ کے لیے پیش کیا گیا، لیکن انھوں نے کہا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اس کے بارے میں کوئی حکم نہیں دیا۔ سفیان کہتے ہیں: (بچ جانے والی گائیوں کی) کی تیس سے کم مقدار وقص ہے۔
وضاحت:
فوائد: چونکہ زکوۃ کے لیے گائے کی کم از کم مقدار (۳۰) ہونی چاہیے، اس لیے اگر کسی آدمی کے پاس (۶۹) گائیں ہیں، تو صرف (۴۰) جانوروں کی زکوۃ وصول کی جائے گی اور بقیہ (۲۹) پر کوئی زکوۃ نہیں ہو گی، کیونکہ وہ (۳۰) سے کم ہیں، اسی تعداد کو وقص کہتے ہیں۔ شہد کی زکوۃ کی تفصیل آگے آئے گی۔