حدیث نمبر: 3359
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَثَلُ الْبَخِيلِ وَالْمُتَصَدِّقِ مَثَلُ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ مِنْ حَدِيدٍ قَدِ اضْطُرَّتْ أَيْدِيهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا، فَكُلَّمَا هَمَّ الْمُتَصَدِّقُ بِصَدَقَةٍ اتَّسَعَتْ عَلَيْهِ حَتَّى تُعَفِّيَ أَثَرَهُ، وَكُلَّمَا هَمَّ الْبَخِيلُ بِصَدَقَةٍ انْقَبَضَتْ عَلَيْهِ كُلُّ حَلْقَةٍ مِنْهَا إِلَى صَاحِبَتِهَا وَتَقَلَّصَتْ عَلَيْهِ))، قَالَ فَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((فَيَجْهَدُ أَنْ يُوَسِّعَهَا فَلَا تَتَّسِعُ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بخل کرنے والے اور صدقہ کرنے والے کی مثال ان دو آدمیوں کی سی ہے جن پر لوہے کے دو جُبّے ہوں اور ان کے ہاتھ ہنسلی کی ہڈیوں تک باندھ دیئے گئے ہوں، جب صدقہ کرنے والا صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا جبہ اس حد تک کھل کر وسیع ہو جاتا ہے کہ اس کے پاؤں کے نشان مٹانے لگ جاتا ہے، لیکن جب بخیل آدمی صدقہ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو اس کے جبہ کا ایک ایک حلقہ سکڑ کر اس کے اوپر بری طرح تنگ ہو جاتا ہے۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: پھر وہ اپنے جبہ کو کھلا کرنے کی پوری کوشش کرتا ہے مگر وہ وسیع نہیں ہوتا۔

وضاحت:
فوائد: جس طرح نمازی کے لیے نماز پڑھنا آسان اور بے نمازی کے لیے یہی عمل بہت مشکل ہوتا ہے، اسی طرح صدقہ کرنا سخی کے لیے انتہائی آسان اور بخیل کے لیے بڑا مشکل ہوتا ہے، اور یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ ہر شخص کو اپنے کمائے ہوئے مال سے محبت ہوتی ہے اور ایسا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دینا دل گردے کا کام ہے، لیکن نجات کے لیے ضروری بھی، کسی بخیل شخص کو سخاوت پر آمادہ کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ تھوڑی مقدار میں اس سے صدقہ و خیرات کروایا جائے، آہستہ آہستہ راہیں کھلتی چلی جائیں گی۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3359
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1443، 2917، ومسلم: 1021، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9057 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9045»