حدیث نمبر: 3357
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَا مِنْ عَبْدٍ مُؤْمِنٍ تَصَدَّقَ بِصَدَقَةٍ مِنْ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا وَلَا يَصْعَدُ إِلَى السَّمَاءِ إِلَّا طَيِّبٌ إِلَّا وَهُوَ يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ أَوْ فِي كَفِّ الرَّحْمَنِ فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى إِنَّ التَّمْرَةَ لَتَكُونُ مِثْلَ الْجَبْلِ الْعَظِيمِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو مومن حلال اور پاکیزہ کمائی میں سے صدقہ کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ بھی صرف پاکیزہ ہی کو قبول فرماتا ہے اور آسمان کی طرف بھی صرف یہی حلال کمائی چڑھتی ہے، بہرحال اللہ تعالیٰ اس (صدقہ کو) اپنے ہاتھ میں لے کر یوں بڑھاتا رہتا ہے جیسے تم میں سے کوئی اپنی گھوڑی، یا گائے کے بچے کو پالتا ہے، یہاں تک کہ ایک کھجور بہت بڑے پہاڑ کے برابر ہو جاتی ہے۔

وضاحت:
فوائد: صدقہ و خیرات کسی بھی عبادت گزار کی عبادات کا اہم جزو ہے اور اس کے بغیر زندگی نامکمل ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات ِ مبارکہ میں مختلف انداز میں صدقہ کی عظیم مثالیں پیش کیں، صحابہ کرام eنے بھی اس پہلو کو تشنہ نہ رہنے دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3357
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 1014، وعلقه البخاري باثر الحديثين: 1410، 7430 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10945 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9413»