حدیث نمبر: 3356
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَقْبَلُ الصَّدَقَاتِ وَيَأْخُذُهَا بِيَمِينِهِ فَيُرَبِّيهَا لِأَحَدِكُمْ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ مُهْرَهُ أَوْ فَلُوَّهُ أَوْ فَصِيلَهُ حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَصِيرُ مِثْلَ جَبَلِ أُحُدٍ، قَالَ وَكِيعٌ فِي حَدِيثِهِ: وَتَصْدِيقُ ذَلِكَ فِي كِتَابِ اللَّهِ {وَهُوَ الَّذِي يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ} {وَيَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ}))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ صدقات کو قبول کرتا ہے اور ان کو دائیں ہاتھ میں وصول کرتا ہے، پھر وہ ان کو یوں بڑھاتا رہتا ہے، جیسے تم میں سے کوئی گھوڑی، اونٹنی یا گائے کے بچے کی پرورش کرتا ہے،یہاں تک کہ ایک لقمہ احد پہاڑ کے برابر ہو جاتا ہے۔ وکیع نے اپنی روایت میں کہا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اس فرمان کی تصدیق قرآن مجید کی ان آیات سے ہوتی ہے: اللہ اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور ان کے صدقات کو پکڑ لیتا ہے۔ (سورۂ توبہ:۱۰۴) اور اللہ سود کو ختم کرنا اور صدقات کو بڑھاتا ہے۔ (سورۂ بقرۃ:۲۸۶)

وضاحت:
فوائد: … پہلی آیت کے الفاظ کسی راوی کی بھول چوک کا نتیجہ ہیں، قرآن مجید میں یہ آیت اس طرح ہے: {اَلَمْ یَعْلَمُوْا اَنَّ اللّٰہَ ھُوَ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہِ وَیَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ} اور سورۂ شوری کے الفاظ یوں ہیں: {وَھُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاتِ}۔ اللہ تعالیٰ ہی ہے جو بھول چوک سے پاک ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الزكاة / حدیث: 3356
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حديث صحيح أخرجه الترمذي: 662 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10088 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10090»