الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ تَطْيِيبِ بَدَنِ الْمَيِّتِ وَكَفَنِهِ إِلَّا الْمُحْرِمَ - وَمَا جَاءَ فِي تَكْفِينِ الْمُحْرِمِ باب: میت کے بدن و کفن کو خوشبو لگانے کا بیان، الّا یہ کہ وہ محرِم ہو، نیز محرم کی تکفین کا بیان
حدیث نمبر: 3132
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ فَأَمَرَ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُغَسَّلَ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ، وَأَنْ يُكَفَّنَ فِي ثَوْبَيْنِ، وَقَالَ: ((لَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ خَارِجَ رَأْسِهِ))، قَالَ شُعْبَةُ، ثُمَّ إِنَّهُ حَدَّثَنِي بِهِ بَعْدَ ذَلِكَ، فَقَالَ: خَارِجَ رَأْسِهِ أَوْ وَجْهِهِ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّدًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(تیسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں کے ساتھ غسل دے کر دو کپڑوں میں کفن دے دو، نیز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے خوشبو نہ لگاؤ اور اس کا سر بھی ننگا ہونا چاہیے۔ اس کے بعد امام شعبہ نے اس حدیث کو یوں بیان کیا: اس کا سر یا چہرہ ننگاہونا چاہیے، کیونکہ اس کو قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ اس کا سر چپکایا ہوا ہو گا۔
وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں احرام باندھنے والے بعض لوگ سر پر کوئی چیز لگا کر بالوں کو چپکا لیا کرتے تھے، تاکہ وہ جڑیں رہیں اور خاک آلود نہ ہوں، ممکن ہے کہ اس آدمی نے بھی اپنے بالوں کو چپکایا ہوا ہو، جس کی وجہ سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حدیث ارشاد فرمائی ہو۔ احرام کی حالت میں فوت ہونے والے کی یہ خصوصیات ہیں کہ اسے دو کپڑوں میں ہی کفن دیا جائے اور سر کو نہ ڈھانپا جائے اور خوشبو بھی نہ لگائی جائے، امام احمد اور امام شافعی رحمہما اللہ کی یہی رائے ہے، لیکن امام ابو حنیفہkکا خیال یہ ہے اس کے ساتھ عام میت والا سلوک کیا جائے، اس حدیث ِ مبارکہ کی روشنی میں اول الذکر مسلک راجح ہے۔