الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ تَطْيِيبِ بَدَنِ الْمَيِّتِ وَكَفَنِهِ إِلَّا الْمُحْرِمَ - وَمَا جَاءَ فِي تَكْفِينِ الْمُحْرِمِ باب: میت کے بدن و کفن کو خوشبو لگانے کا بیان، الّا یہ کہ وہ محرِم ہو، نیز محرم کی تکفین کا بیان
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا))سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھا، اس کی اونٹنی نے اس کو اس طرح گرایا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا، جبکہ وہ احرام کی حالت میں تھا۔ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کی پتوں کے ساتھ غسل دے کر اس کے ان ہی دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اس کو خوشبو نہ لگاؤ اور اس کے سر کو بھی نہ ڈھانپو، کیونکہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔