حدیث نمبر: 3129
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَوَقَصَتْهُ نَاقَتُهُ وَهُوَ مُحْرِمٌ فَمَاتَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((اغْسِلُوهُ بِمَاءٍ وَسِدْرٍ وَكَفِّنُوهُ فِي ثَوْبَيْهِ، وَلَا تُمِسُّوهُ بِطِيبٍ وَلَا تُخَمِّرُوا رَأْسَهُ فَإِنَّهُ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُلَبِّيًا))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ سفر میں تھا، اس کی اونٹنی نے اس کو اس طرح گرایا کہ اس کی گردن ٹوٹ گئی اور وہ فوت ہو گیا، جبکہ وہ احرام کی حالت میں تھا۔ اس کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پانی اور بیری کی پتوں کے ساتھ غسل دے کر اس کے ان ہی دو کپڑوں میں کفن دے دو اور اس کو خوشبو نہ لگاؤ اور اس کے سر کو بھی نہ ڈھانپو، کیونکہ اسے قیامت کے دن اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ یہ تلبیہ کہہ رہا ہو گا۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3129
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه البخاري: 1851، ومسلم: 1206 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1850 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1850»