الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ التَّكْفِينِ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ وَجَوَازِ تَكْفِينِ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَالِاقْتِصَارِ عَلَى مَا يَسْتُرُ الْعَوْرَةَ إِذَا دَعَتِ الضَّرُورَةُ وَاسْتِحْبَابِ الْمُوَاسَاةِ بِالْكَفَنِ باب: میت کی تکفین اس کے راس المال سے کرنے، ضرورت کے وقت دو تین تین اموات کو ایک ایک کپڑے میں کفن دینے، کہ شرم والے مقامات پر پردہ ہو جائے، اور کسی دوسرے آدمی کو کفن دینے کے مستحبّ ہونے کا بیان
حدیث نمبر: 3124
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمْ يُوجَدْ لَهُ كَفَنٌ إِلَّا بُرْدَةٌ مَلْحَاءُ، إِذَا جُعِلَتْ عَلَى رَأْسِهِ قَلَصَتْ عَنْ قَدَمَيْهِ، وَإِذَا جُعِلَتْ عَلَى قَدَمَيْهِ قَلَصَتْ عَنْ رَأْسِهِ حَتَّى مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ وَجُعِلَ عَلَى قَدَمَيْهِ الإِذْخِرُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا خباب رضی اللہ عنہ سے ہی روایت ہے کہ سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے کفن کے لیے صرف ایک دھاری دار چادر میسر آ سکی اور وہ (بھی اس قدر مختصر تھی) کہ اگر ان کے سر پر ڈالی جاتی تو پاؤں سے ہٹ جاتی تھی اور اگر پاؤں پر ڈالی جاتی تو سر سے ہٹ جاتی۔ آخر کار چادر ان کے سر پر رکھی گئی اور پاؤں پر اذخر (گھاس) ڈال دی گئی۔
وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث کا مفہوم واضح ہے۔