حدیث نمبر: 3120
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى حَمْزَةَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَرَآهُ قَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ: تَأْكُلُهُ الْعَاهَةُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا))، قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِنَمِرَةٍ، فَكَفَّنَهُ فِيهَا، قَالَ: وَكَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ بَدَتْ قَدَمَاهُ، وَإِذَا مُدَّتْ عَلَى قَدَمَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، قَالَ: وَكَثُرَ الْقَتْلَى وَقَلَّتِ الثِّيَابُ، قَالَ: وَكَانَ يُكَفَّنُ أَوْ يُكَفَّنَ الرَّجُلَانِ شَكَّ صَفْوَانُ، وَالثَّلَاثَةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْ أَكْثَرِهِمْ قُرْآنًا فَيُقَدَّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، قَالَ: فَدَفَنَهُمْ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اوردیکھا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر صفیہ محسوس نہ کرتی تو میں ان کو ایسے ہی رہنے دیتا، یہاں تک کے درندے اور (گوشت خور) پرندے ان کو کھا جاتے اور ان کے پیٹوں سے ان کا حشر ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھاری دار چادر منگوا کر ان کو اس میں کفن دیا، وہ چادر اس قدر چھوٹی تھی کہ اگر سر کو ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر اسے پاؤں پرڈالا جاتا تو سر ننگا ہو جاتا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو تین تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفن دیتے پھر پوچھتے کہ ان میں سے زیادہ قرآن مجید کس کو یاد ہے، پس اسے (لحد میں) قبلہ کی طرف مقدم کرتے۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداء کو دفن کر دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔زید بن حباب راوی نے کہا: ایک ایک، دو دو اور تین تین آدمیوں کو ایک ایک کپڑے میں کفن دیا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا، سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی سگی بہن تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے یہ تھے کہ سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کا پورا بدن، اللہ تعالیٰ کی راہ میں فنا ہو جائے اور اس طرح ان کا اجر مکمل ہو جائے۔ ایک کپڑے میں ایک سے زائد شہداء کو دفن کرنا، اس کی دو صورتیںہو سکتی ہیں: (۱)ایک کپڑے کو پھاڑ کر دو یا تین حصوں میں تقسیم کر کے ہر حصے کو علیحدہ علیحدہ میت
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3120
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «حسن لغيره۔ أخرجه أبوداود: 3136، والترمذي: 1016، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12300 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12325»