الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ التَّكْفِينِ مِنْ رَأْسِ الْمَالِ وَجَوَازِ تَكْفِينِ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَالِاقْتِصَارِ عَلَى مَا يَسْتُرُ الْعَوْرَةَ إِذَا دَعَتِ الضَّرُورَةُ وَاسْتِحْبَابِ الْمُوَاسَاةِ بِالْكَفَنِ باب: میت کی تکفین اس کے راس المال سے کرنے، ضرورت کے وقت دو تین تین اموات کو ایک ایک کپڑے میں کفن دینے، کہ شرم والے مقامات پر پردہ ہو جائے، اور کسی دوسرے آدمی کو کفن دینے کے مستحبّ ہونے کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَتَى عَلَى حَمْزَةَ فَوَقَفَ عَلَيْهِ فَرَآهُ قَدْ مُثِّلَ بِهِ، فَقَالَ: ((لَوْلَا أَنْ تَجِدَ صَفِيَّةُ فِي نَفْسِهَا لَتَرَكْتُهُ حَتَّى تَأْكُلَهُ الْعَافِيَةُ، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ: تَأْكُلُهُ الْعَاهَةُ حَتَّى يُحْشَرَ مِنْ بُطُونِهَا))، قَالَ: ثُمَّ دَعَا بِنَمِرَةٍ، فَكَفَّنَهُ فِيهَا، قَالَ: وَكَانَتْ إِذَا مُدَّتْ عَلَى رَأْسِهِ بَدَتْ قَدَمَاهُ، وَإِذَا مُدَّتْ عَلَى قَدَمَيْهِ بَدَا رَأْسُهُ، قَالَ: وَكَثُرَ الْقَتْلَى وَقَلَّتِ الثِّيَابُ، قَالَ: وَكَانَ يُكَفَّنُ أَوْ يُكَفَّنَ الرَّجُلَانِ شَكَّ صَفْوَانُ، وَالثَّلَاثَةُ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، قَالَ: وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَسْأَلُ عَنْ أَكْثَرِهِمْ قُرْآنًا فَيُقَدَّمُهُ إِلَى الْقِبْلَةِ، قَالَ: فَدَفَنَهُمْ رَسُولُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَقَالَ زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، فَكَانَ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ وَالثَّلَاثَةُ يُكَفَّنُونَ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍسیّدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سیّدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاس آ کر کھڑے ہوئے اوردیکھا کہ ان کا مثلہ کیا جا چکا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر صفیہ محسوس نہ کرتی تو میں ان کو ایسے ہی رہنے دیتا، یہاں تک کے درندے اور (گوشت خور) پرندے ان کو کھا جاتے اور ان کے پیٹوں سے ان کا حشر ہوتا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دھاری دار چادر منگوا کر ان کو اس میں کفن دیا، وہ چادر اس قدر چھوٹی تھی کہ اگر سر کو ڈھانپا جاتا تو پاؤں ننگے ہو جاتے اور اگر اسے پاؤں پرڈالا جاتا تو سر ننگا ہو جاتا۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دو دو تین تین آدمیوں کو ایک کپڑے میں کفن دیتے پھر پوچھتے کہ ان میں سے زیادہ قرآن مجید کس کو یاد ہے، پس اسے (لحد میں) قبلہ کی طرف مقدم کرتے۔ اس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شہداء کو دفن کر دیا اور ان کی نماز جنازہ نہیں پڑھی۔زید بن حباب راوی نے کہا: ایک ایک، دو دو اور تین تین آدمیوں کو ایک ایک کپڑے میں کفن دیا گیا۔