الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ صِفَةِ الْكَفَنِ لِلرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ وَفِي كَمْ ثَوْبٍ يَكُونُ باب: مرد اور عورت کے کفن کی کیفیت کا بیان ، نیز وہ کتنے کپڑے ہونے چاہئیں
عَنْ لَيْلَى ابْنَةِ قَانِفٍ الثَّقَفِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كُنْتُ فِيمَنْ غَسَّلَ أُمَّ كُلْثُومٍ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عِنْدَ وَفَاتِهَا وَكَانَ أَوَّلَ مَا أَعْطَانَا رَسُولُ اللَّهِ الْحِقَاوَيْنِ، ثُمَّ الدِّرْعُ، ثُمَّ الْخِمَارُ، ثُمَّ الْمِلْحَفَةُ، ثُمَّ أُدْرِجَتْ بَعْدُ فِي الثَّوْبِ الْآخِرِ، قَالَتْ: وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ الْبَابِ مَعَهُ كَفَنُهَا يُنَاوِلُنَا ثَوْبًا ثَوْبًاسیدہ لیلیٰ بنت قانف ثقفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:میں ان عورتوں میں شامل تھی، جنہوں نے سیدہ ام کلثوم بنت رسول رضی اللہ عنہا کو ان کی وفات کے موقع پر غسل دیا تھا۔ ان کے کفن کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سب سے پہلے ہمیں اپنے تہبند کی چادر دی،اس کے بعد بالترتیب قمیص، دوپٹہ اور ایک بڑی چادر دی، پھر ان کو ایک اور کپڑے میں لپیٹ دیا گیا۔سیدہ لیلیٰ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دروازے کے پاس بیٹھے ہوئے تھے،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ان کا کفن تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک ایک کر کے یہ کپڑے ہمیں پکڑا رہے تھے۔