الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ صِفَةِ الْكَفَنِ لِلرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ وَفِي كَمْ ثَوْبٍ يَكُونُ باب: مرد اور عورت کے کفن کی کیفیت کا بیان ، نیز وہ کتنے کپڑے ہونے چاہئیں
حدیث نمبر: 3114
عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ: إِنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَهَا: يَا بُنَيَّةُ! أَيُّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: يَوْمَ الْإِثْنَيْنِ، قَالَ: فِي كَمْ كَفَّنْتُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قُلْتُ: يَا أَبَتِ! كَفَّنَّاهُ فِي ثَلَاثَةِ أَثْوَابٍ بِيضٍ سُحُولِيَّةٍ جُدَدٍ يَمَانِيَّةٍ لَيْسَ فِيهَا قَمِيصٌ وَلَا عِمَامَةٌ أُدْرِجَ فِيهَا إِدْرَاجًاترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ سیّدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان سے پوچھا: بیٹی! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انتقال کس روز کو ہوا تھا؟ میں نے کہا: سوموار کو۔ پوچھا: آپ لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کتنے کپڑوں میں کفن دیا تھا؟ میں نے کہا: ابا جان! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تین سفید نئے یمنی سحولی کپڑوں میں کفن دیا تھا، ان میں قمیص تھی نہ عمامہ ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ان چادروں میں لپیٹ دیا گیا تھا۔
وضاحت:
فوائد: … اس حدیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ تین چادریں بچھا دی جائیں اور ان کے اوپر میت کو رکھ کر ان کو اس پر لپیٹ دیا جائے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم کی روایات میں بھی یہ وضاحت موجود ہے کہ اِن تین کپڑوں میں قمیص اور پگڑی نہیں تھی، جن روایات میں قمیص کا ذکر ہے، وہ یا تو ضعیف ہیں یا اس صحیح ترین حدیث کی مخالفت کی وجہ سے شاذ ہیں۔ کیا کفن کے لیے تین کپڑوںکا ہونا ضروری ہے؟ اس کا ذکر اگلے تین ابواب میں آ رہا ہے۔