الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ اسْتِحْبَابِ إِحْسَانِ الْكَفَنِ مِنْ غَيْرِ مُغَالَاةٍ وَاخْتِيَارِ الْأَبْيَضِ باب: اس امر کا بیان کہ غلو کئے بغیر میت کو عمدہ کفن دیا جائے اور سفید کفن زیادہ پسندیدہ ہے
حدیث نمبر: 3110
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
اس باب کے تحت درج ذیل، ذیلی ابواب اور احادیث آئی ہیں۔
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَطَبَ يَوْمًا فَذَكَرَ رَجُلًا قُبِضَ وَكُفِّنَ فِي كَفَنٍ غَيْرِ طَائِلٍ، وَقُبِرَ لَيْلًا فَزَجَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْبَرَ بِاللَّيْلِ حَتَّى يُصَلَّى عَلَيْهِ إِلَّا أَنْ يُضْطَرَّ إِنْسَانٌ إِلَى ذَلِكَ، وَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِذَا كَفَّنَ أَحَدُكُمْ أَخَاهُ فَلْيُحَسِّنْ كَفَنَهُ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن خطبہ دیا اورایسے آدمی کا ذکر کیا گیا، جو فوت ہوا اور اسے معمولی سا کفن دے کر رات کو ہی دفن کر دیا گیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھے بغیر رات کو دفن کرنے سے منع کر دیا، الّا یہ کہ بندہ مجبور ہو جائے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفن دے تو وہ اچھا کفن دیا کرے۔
وضاحت:
فوائد: … سیّدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((إِذَا وَلِيَ أَحَدُکُمْ أَخَاہُ فَلْیُحْسِنْ کَفَنَہٗ، فَإِنَّھُمْ یُبْعَثُوْنَ فِيْ أَکْفَانِھِمْ، وَیَتَزَاوَرُوْنَ فِيْ أَکْفَانِھِمْ۔)) (التاریخ للخطیب:: ۹/ ۸۰، صحیحۃ: ۱۴۲۵)