الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ صِفَةِ غُسْلِ الْمَيِّتِ باب: میت کو غسل دینے کا بیان
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ أَخَذَ ابْنُ سِيرِينَ غُسْلَهُ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: غَسَّلْنَا ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَغْسِلَهَا بِالسِّدْرِ ثَلَاثًا فَإِنْ أَنْجَزْتْ، وَإِلَّا فَخَمْسًا، فَإِنْ أَنْجَزْتْ وَإِلَّا فَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَتْ: فَرَأَيْنَا أَنَّ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ سَبْعٌقتادہ کہتے ہیں: ابن سیرین نے غسل کا طریقہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے سیکھا تھا وہ کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دینے کا ارادہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے بیری کے پتے ملے ہوئے پانی سے تین بار غسل دیں، اگر اچھی طرح صفائی ہو جائے تو ٹھیک، ورنہ پانچ مرتبہ غسل دیں۔ اگر اس سے صفائی ہو جائے تو ٹھیک، وگرنہ اس سے زیادہ مرتبہ غسل دیں۔سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمارا خیال ہے کہ پانچ سے زیادہ مرتبہ سے مراد سات مرتبہ ہے۔