حدیث نمبر: 3108
عَنْ قَتَادَةَ قَالَ أَخَذَ ابْنُ سِيرِينَ غُسْلَهُ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: غَسَّلْنَا ابْنَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَنَا أَنْ نَغْسِلَهَا بِالسِّدْرِ ثَلَاثًا فَإِنْ أَنْجَزْتْ، وَإِلَّا فَخَمْسًا، فَإِنْ أَنْجَزْتْ وَإِلَّا فَأَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ، قَالَتْ: فَرَأَيْنَا أَنَّ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ سَبْعٌ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

قتادہ کہتے ہیں: ابن سیرین نے غسل کا طریقہ سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا سے سیکھا تھا وہ کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی کو غسل دینے کا ارادہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے بیری کے پتے ملے ہوئے پانی سے تین بار غسل دیں، اگر اچھی طرح صفائی ہو جائے تو ٹھیک، ورنہ پانچ مرتبہ غسل دیں۔ اگر اس سے صفائی ہو جائے تو ٹھیک، وگرنہ اس سے زیادہ مرتبہ غسل دیں۔سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہمارا خیال ہے کہ پانچ سے زیادہ مرتبہ سے مراد سات مرتبہ ہے۔

وضاحت:
فوائد: … سنن ابی داود کی روایت کے الفاظ یہ ہیں: ((اَوْ سَبْعًا أَوْ أَکْثَرَ مِنْ ذَالِکَ اِنْ رَأَیْتُنَّہٗ۔)) یعنی: ’’یا سات مرتبہ یا اس سے بھی زیادہ مرتبہ غسل دو، اگر تم اس کی ضرورت محسوس کرو۔‘‘ان احادیث سے معلوم ہوا کہ کم از کم تین دفعہ غسل دینا ضروری ہے، اگر ضرورت ہو تو اس سے زیادہ دفعہ بھی دیا جا سکتا ہے، لیکن طاق عدد کا خیال رکھنا چاہیے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3108
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث السابق ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21081»