حدیث نمبر: 3106
عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ فَرُّوخَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ: شَهِدْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُفِنَ فِي ثِيَابِهِ بِدِمَائِهِ وَلَمْ يُغَسَّلْ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبد اللہ بن فروخ کہتے ہیں:میں موجود تھا، سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو خون سمیت ان کے کپڑوں میں دفن کیا گیا اور ان کو غسل نہیں دیا گیا۔

وضاحت:
فوائد: … تمام احادیث اپنے مفہوم میں واضح ہیں کہ شہید سے اسلحہ وغیرہ اتار کر اس کو غسل دیئے بغیر اس کو اس کے کپڑوں میں کفن دے کر نماز جنازہ پڑھے بغیر دفن کر دیا جائے گا اور مجبوری کے وقت دو تین تین افراد کو ایک ایک قبر میں دفن کیا جا سکتا ہے، البتہ ان میںجو زیادہ قرآن مجید پڑھنے والا ہو، اسے قبلہ کی طرف مقدم کر کے رکھا جائے۔ لیکن شہید کی نماز جنازہ پڑھنا بھی درست ہے، دلائل درج ذیل ہیں: سیّدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک دن نکلے اور آٹھ سالوں کے بعد احد والوں پر اسی طرح نماز پڑھی، جیسے میت پر پڑھتے، ایسے معلوم ہوتا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم زندوں اور مردوں کو الوداع کہہ رہے ہیں، پھر منبر کی طرف پھرے۔ …۔ (بخاری، مسلم)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3106
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، محبوب بن محرز ضعفه الدارقطني، وقال ابو حاتم: يكتب حديثه، وذكره ابن حبان في الثقات، وابراهيم بن عبد الله بن فروخ مجھول ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 531 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 531»