الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ تَرْكِ غُسْلِ الشَّهِيدِ وَمَا جَاءَ فِيهِ باب: شہید کو غسل نہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3103
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ أُحُدٍ أَشْرَفَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى الشُّهَدَاءِ الَّذِينَ قُتِلُوا يَوْمَئِذٍ، فَقَالَ: ((زَمِّلُوهُمْ بِدِمَائِهِمْ فَإِنِّي قَدْ شَهِدْتُّ عَلَيْهِمْ))، فَكَانَ يُدْفَنُ الرَّجُلَانِ وَثَلَاثَةٌ فِي الْقَبْرِ الْوَاحِدِ، وَيُسْأَلُ أَيُّهُمْ كَانَ أَقْرَأَ لِلْقُرْآنِ فَيُقَدَّمُونَهُ، قَالَ: فَدُفِنَ أَبِي وَعَمِّي يَوْمَئِذٍ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناجابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم شہداء پرمتوجہ ہوئے اور فرمایا: ان کو خون سمیت ڈھانپ دو، میں ان کے حق میں گواہی دوں گا۔)) پھر دو دو، تین تین آدمیوں کو ایک ایک قبر میں دفن کیا گیا اور دفن کے وقت یہ پوچھا جاتا ہے کہ ان میں سے کون زیادہ قرآن پڑھا ہوا ہے، پھر اسے قبر میں مقدم کرتے تھے۔ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: اس روز میرے والد اور چچا کو ایک قبر میں دفن کیا گیا۔