حدیث نمبر: 3102
عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا كَانَتْ تَقُولُ: لَوِ اسْتَقْبَلْتُ مِنَ الْأَمْرِ مَا اسْتَدْبَرْتُ مَا غَسَّلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَّا نِسَاءُهُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی تھیں: جس چیز کا مجھے بعد میں پتہ چلا، اگر اس کا پہلے پتہ ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیویاں ہی غسل دیتیں۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی مکمل روایت آ گے آ رہی ہے، اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ میاں بیوی ایک دوسرے کو غسل دے سکتے ہیں۔ اس ضمن میں امام ابوحنیفہkکا یہ مسلک ہے کہ خاوند بیوی کو غسل نہیں دے سکتا، کیونکہ موت کی وجہ سے ان میں جدائی پیدا ہو جاتی ہے، یہی وجہ یہ ہے کہ بیوی کے مرنے کے بعد اس کی بہن اُس مرد کے لیے حلال ہو جاتی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3102
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «اسناده حسن۔ أخرجه أبوداود: 3141، وابن ماجه: 1464، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26306 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26837»