الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَنْ بُلِيَ وَرِفْقِهِ بِهِ وَسَتْرِهِ عَلَيْهِ وَثَوَابِ ذَلِكَ باب: میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے¤اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 3099
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يَسْتُرُ عَبْدٌ عَبْدًا فِي الدُّنْيَا إِلَّا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدناابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص دنیا میں دوسرے آدمی پر پردہ ڈالے گا، اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس پر پردہ ڈالے گا۔
وضاحت:
فوائد: … پردہ ڈالنے سے مراد عیب کو چھپانا ہے، یہ حدیث اپنے عموم کی بنا پر زندہ اور میت دونوں کو شامل ہے، زندہ کے عیب کے بارے میں شرعی اصول یہ ہے کہ سب سے پہلے اس کی اصلاح کے لیے ہر ممکنہ شرعی کوشش کی جائے گی، وگرنہ خاموشی، لیکن اگر اس عیب کی وجہ سے کسی مسلمان کو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو گا، تو اسے آگاہ کیا جائے گا۔