الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَنْ بُلِيَ وَرِفْقِهِ بِهِ وَسَتْرِهِ عَلَيْهِ وَثَوَابِ ذَلِكَ باب: میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے¤اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 3098
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنَّ آدَمَ عَلَيْهِ السَّلَامُ قَبَضَتْهُ الْمَلَائِكَةُ وَغَسَّلُوهُ وَكَفَّنُوهُ وَحَنَّطُوهُ وَحَفَرُوا لَهُ وَأَلْحَدُوا لَهُ وَصَلَّوْا عَلَيْهِ، ثُمَّ دَخَلُوا قَبْرَهُ فَوَضَعُوهُ عَلَيْهِ اللَّبِنَ ثُمَّ خَرَجُوا مِنَ الْقَبْرِ ثُمَّ حَثَوْا عَلَيْهِ التُّرَابَ، ثُمَّ قَالُوا: يَا بَنِي آدَمَ! هَذِهِ سُنَّتُكُمْترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: فرشتوں نے آدم علیہ السلام کی روح کو قبض کیا، پھر ان کو غسل دے کر کفن پہنایا اور خوشبو لگائی، بعد ازاں ان کی قبر کھودی اور لحد تیار کی۔ پھران کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کی قبر میں داخل ہوئے اور ان کو قبر میں اتار دیا، پھر اس پر اینٹیں رکھ کرقبر سے باہر آئے اور اس پر مٹی ڈال کر کہا: اے بنی آدم! تمہارے لیے مردوں کو دفن کرنے کا یہ طریقہ ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ روایت تو موقوف اور ضعیف ہے، لیکن ہماری شریعت میں کفن و دفن کا یہی انداز مشروع ہے۔