الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَنْ بُلِيَ وَرِفْقِهِ بِهِ وَسَتْرِهِ عَلَيْهِ وَثَوَابِ ذَلِكَ باب: میت کے امور کا ذمہ دار کون ہے؟ اس کا اور اس کے ساتھ نرمی کرنے¤اس پر پردہ ڈالنے اور اس کے ثواب کا بیان
حدیث نمبر: 3097
عَنْ صَالِحٍ أَبِي حُجَيْرٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ خُدَيْجٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، مَنْ غَسَّلَ مَيِّتًا وَكَفَّنَهُ وَتَبِعَهُ وَوَلِيَ جُثَّتَهُ، رَجَعَ مَغْفُورًا لَهُ، قَالَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ: قَالَ أَبِي: لَيْسَ بِمَرْفُوعٍترجمہ:محمد محفوظ اعوان
صحابی ٔ رسول سیّدنا معاویہ بن خدیج رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: جو شخص میت کو غسل اور کفن دے، پھر اس کے ساتھ جائے اور اس کے دفن کا اہتمام کرے تو بخشا بخشایا واپس آئے گا۔ امام احمد رحمہ اللہ نے کہا: یہ مرفوع نہیں ہے۔
وضاحت:
فوائد: … یہ حدیث حکماً مرفوع ہے، کیونکہ ایسی بات اپنی رائے سے نہیں کہی جا سکتی۔