الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأِحْدَادِ عَلَى الْمَيِّتِ باب: میت پر سوگ منانے کا بیان
حدیث نمبر: 3093
عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ الْأَنْصَارِيَّةِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((لَا تُحِدَّ الْمَرْأَةُ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ فَإِنَّهَا تُحِدُّ عَلَيْهِ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا، وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا عَصْبًا، وَلَا تَكْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِيبًا إِلَّا عِنْدَ طُهْرِهَا، فَإِذَا طَهُرَتْ مِنْ حَيْضِهَا نُبَذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی عورت کسی میت پر تین دنوں سے زیادہ سوگ نہ منائے، سوائے خاوند پر، اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی، اس دوران وہ رنگے ہوئے کپڑے نہ پہنے،لیکن رنگے ہوئے سوت کا کپڑا پہن سکتی ہے، سرمہ نہ لگائے، خوشبو استعمال نہ کرے، مگر جب ایام حیض سے پاک ہو تو تب تھوڑی سی قسط یا اظفار کی خوشبو استعمال کر لے۔
وضاحت:
فوائد: … سنن ابوداود اور سنن نسائی کی روایت میں ((وَلَاتَخْتَضِبْ)) (اور مہندی نہ لگائے) اور سنن نسائی کی روایت میں ((وَلَا تَمْتَشِطْ)) (اور کنگھی بھی نہ کرے۔) کے الفاظ کی زیادتی ہے۔ اس حدیث میں سوگ منانے والی خاتون کے احکام بیان کیے گئے ہیں۔ ’’لیکن رنگے ہوئے سوت کا کپڑا پہن سکتی ہے۔‘‘ اس سے مراد وہ کپڑا ہے جس کی بنائی ہی رنگین دھاگوں سے کی گئی ہو۔ آج کل عام طور پر خواتین ان شرائط کی قطعی طور پر کوئی لحاظ نہیں کرتی، جبکہ اس معاملے میں درج ذیل حدیث سے سختی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔