الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي الْأِحْدَادِ عَلَى الْمَيِّتِ باب: میت پر سوگ منانے کا بیان
حدیث نمبر: 3090
عَنْ زَيْنَبَ بِنْتِ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَتْ: تُوُفِّيَ حَمِيمٌ لِأُمِّ حَبِيبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَعَتْ بِصُفْرَةٍ، فَمَسَحَتْ بِذِرَاعَيْهَا وَقَالَتْ: إِنَّمَا أَصْنَعُ هَذَا لِشَيْءٍ سَمِعْتُ (وَفِي رِوَايَةٍ: لِأَنَّ) رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ مُسْلِمَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا أَرْبَعَةً وَعَشْرًا))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ زینب بنت ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کا ایک رشتہ دار فوت ہو گیا، انہوں نے خوشبو منگوا کر بازوؤں پر لگائی اور کہا:میں نے خاص وجہ کی بنا پر ایسے کیا اور وہ یہ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس عورت کا اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان ہے، اس کے لیے کسی میت پر تین دنوں سے زیادہ سوگ منانا حلال نہیں ہے، ماسوائے خاوند کے، کہ اس کے لیے چار ماہ دس دن (سوگ ہے)۔