حدیث نمبر: 3085
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا مَاتَ حَضَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَتْ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {رُحْمَاءُ بَيْنَهُمْ}
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سیّدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما وہاں تشریف لائے، سیدہ کہتی ہیں:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے رونے کی آواز علیحدہ علیحدہ پہچان رہی تھی، حالانکہ میں اپنے حجرے میں تھی،وہ صحابہ آپس میں ایسے ہی تھے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے: {رُحْمَآئُ بَیْنَہُمْ} (سورۂ فتح: ۲۹) یعنی: وہ آپس میں رحم دل تھے۔

وضاحت:
فوائد: … مذکورہ بالا تین ابواب کی احادیث کا تعلق رونے،نوحہ کرنے اور اس قسم کے دوسرے امور سے ہے۔ ان احادیث کا خلاصہ یہ ہے کہ جس رونے کا تعلق آنکھ کے آنسوؤں اور دل کے غم کے ساتھ ہو، وہ جائز ہے، بلکہ اس کی تعریف کی گئی ہے کیونکہ یہ رونا دل کی نرمی کا نتیجہ ہے، اس ضمن میں ایسی آواز بھی نکل سکتی ہے، جس کے سامنے شدتِ غم کی وجہ سے آدمی مغلوب ہو جاتا ہے، اس باب کی آخری حدیث کا تعلق اسی صورت سے ہے کہ جب سیّدنا ابو بکر اور سیّدنا عمرd، سیّدنا سعد رضی اللہ عنہ پر رو رہے تھے تو ان کے رونے کی آواز آ رہی تھی۔ اس کے علاوہ رونے کی ہر صورت کو نوحہ اور خلافِ شرع قرار دیا جائے گا، مثلا بلند آواز سے رونا، واویلا کرنا، اول فول بکنا، چیخنا، جاہلیت والی پکاریں پکارنا، روتے ہوئے یا اونچی آواز سے میت کے فضائل و محاسن اور عادات و اطوار کا تذکرہ کرنا، مثلا: ہائے میرے بازو، ہائے میرے مددگار، او بہادرا، گریبان چاک کرنا، رخسار پیٹنا، سرمنڈانا، ممنوعہ الفاظ کہنا، اپنے لیے بددعا کرتے ہوئے رونا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3085
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «ھذا حديث طويل وله شواھد يصح بھا دون قولھا: ’’كانت عينه لا تدمع علي احد‘‘۔ أخرجه ابن حبان: 7028، وابن ابي شيبة: 14/ 408، وأخرج بعضَ جمله البخاري ومسلم ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 25097 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25610»