الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ مِنْ غَيْرِ نَوْحٍ باب: نوحہ کے بغیر رونے کی رخصت کا بیان
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ سَعْدَ بْنَ مُعَاذٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا مَاتَ حَضَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَتْ: فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ! إِنِّي لَأَعْرِفُ بُكَاءَ عُمَرَ مِنْ بُكَاءِ أَبِي بَكْرٍ وَأَنَا فِي حُجْرَتِي، وَكَانُوا كَمَا قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {رُحْمَاءُ بَيْنَهُمْ}سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ جب سیّدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور سیّدنا ابوبکر اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہما وہاں تشریف لائے، سیدہ کہتی ہیں:اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! میں ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے رونے کی آواز علیحدہ علیحدہ پہچان رہی تھی، حالانکہ میں اپنے حجرے میں تھی،وہ صحابہ آپس میں ایسے ہی تھے، جیسے اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں فرمایا ہے: {رُحْمَآئُ بَیْنَہُمْ} (سورۂ فتح: ۲۹) یعنی: وہ آپس میں رحم دل تھے۔