حدیث نمبر: 3083
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِأُمَيْمَةَ ابْنَةِ زَيْنَبَ وَنَفْسُهَا تَقَعْقَعُ، كَأَنَّهَا فِي شَنٍّ، فَقَالَ: ((لِلَّهِ مَا أَخَذَ وَلِلَّهِ مَا أَعْطَى، وَكُلٌّ إِلَى أَجَلٍ مُسَمَّى))، قَالَ: فَدَمَعَتْ عَيْنَاهُ، فَقَالَ لَهُ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! أَتَبْكِي؟ أَوَلَمْ تَنْهَ عَنِ الْبُكَاءِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّمَا هِيَ رَحْمَةٌ جَعَلَهَا اللَّهُ فِي قُلُوبِ عِبَادِهِ، وَإِنَّمَا يَرْحَمُ اللَّهُ مِنْ عِبَادِهِ الرُّحَمَاءَ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سیدہ امیمہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو لایا گیا، وہ عالَم نزع میں تھیں اورپرانے مشکیزے کی طرح لگ رہی تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ جو لے لے اور جو دے دے، سب اسی کا ہے اور ہر چیز کا ایک وقت ِ مقرر ہے۔ یہ کہتے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھوں میں آنسو آ گئے، سیّدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ رو رہے ہیں؟ کیا آپ نے رونے سے منع نہیں فرمایا تھا؟رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ رحمت ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے دلوں میں ڈال رکھا ہے اور اللہ تعالیٰ رحم کرنے والے بندوں پر ہی رحم فرماتا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … یعنی اس کے سانس اکھڑنے کی آواز پرانے مشکیزے میں پانی کے چھلکنے کی آواز کی طرح تھی۔(عبداللہ رفیق)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3083
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22142»