الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ مِنْ غَيْرِ نَوْحٍ باب: نوحہ کے بغیر رونے کی رخصت کا بیان
عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَمَاتَتْ ابْنَةٌ لَهُ وَكَانَ يَتْبَعُ جَنَازَتَهَا عَلَى بَغْلَةٍ خَلْفَهَا، فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ، فَقَالَ: لَا تَرْثِينَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمَرَاثِي، فَتُفِيضُ إِحْدَاكُنَّ مِنْ عَبَرَاتِهَا مَا شَاءَتْ، كَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا ثُمَّ قَامَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ قَدْرَ مَا بَيْنَ التَّكْبِيرَتَيْنِ يَدْعُو، ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَازَةِ هَكَذَاسیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ ،جو بیعت ِ رضوان کرنے والے صحابہ میں سے تھے، کی بیٹی کاانتقال ہو گیا۔ وہ ایک خچر پر سوار جنازہ کے پیچھے جا رہے تھے، اتنے میں عورتیں رونے لگیں، انہوں نے کہا: مرثیے مت کہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا ہے۔ البتہ جس قدر چاہو آنسو بہا سکتی ہو۔ پھر انہوں نے نماز جنازہ میں چار تکبیرات کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد بھی دو تکبیروں کے درمیان وقفہ کے برابر کھڑے ہو کر دعائیں کرتے رہے۔ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جنازہ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔