حدیث نمبر: 3080
عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ الشَّجَرَةِ، فَمَاتَتْ ابْنَةٌ لَهُ وَكَانَ يَتْبَعُ جَنَازَتَهَا عَلَى بَغْلَةٍ خَلْفَهَا، فَجَعَلَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ، فَقَالَ: لَا تَرْثِينَ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْمَرَاثِي، فَتُفِيضُ إِحْدَاكُنَّ مِنْ عَبَرَاتِهَا مَا شَاءَتْ، كَبَّرَ عَلَيْهَا أَرْبَعًا ثُمَّ قَامَ بَعْدَ الرَّابِعَةِ قَدْرَ مَا بَيْنَ التَّكْبِيرَتَيْنِ يَدْعُو، ثُمَّ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ فِي الْجَنَازَةِ هَكَذَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا عبد اللہ بن ابی اوفیٰ رضی اللہ عنہ ،جو بیعت ِ رضوان کرنے والے صحابہ میں سے تھے، کی بیٹی کاانتقال ہو گیا۔ وہ ایک خچر پر سوار جنازہ کے پیچھے جا رہے تھے، اتنے میں عورتیں رونے لگیں، انہوں نے کہا: مرثیے مت کہو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مرثیوں سے منع فرمایا ہے۔ البتہ جس قدر چاہو آنسو بہا سکتی ہو۔ پھر انہوں نے نماز جنازہ میں چار تکبیرات کہیں، چوتھی تکبیر کے بعد بھی دو تکبیروں کے درمیان وقفہ کے برابر کھڑے ہو کر دعائیں کرتے رہے۔ پھر کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی جنازہ ایسے ہی کیا کرتے تھے۔

وضاحت:
فوائد: … اس حدیث سے ثابت ہوا کہ جنازے میں چوتھی تکبیر اور سلام کے درمیان دعا کرنا بھی ثابت ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3080
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لضعف ابراهيم بن مسلم الھجري شيخ الباني نے ابن ماجه كي روايت كو صحيح كها، اس ميں چار تكبيرات اور چوتھي تكبير كے بعد دعا كرنے كا ذكر هے، اس كا صحيح سند كے ساتھ ايك موقوف شاهد سنن بيهقي ميں هے۔ (ملاحظه هو: احكام الجنائز للألباني: ص126)۔ أخرجه ابن ماجه: 1503، 1592، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19140 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19353»