حدیث نمبر: 3079
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءِ بْنِ عَلْقَمَةَ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي السُّوقِ وَمَعَهُ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ إِلَى جَنْبِهِ فَمُرَّ بِجَنَازَةٍ يَتْبَعُهَا بُكَاءٌ، فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا: لَوْ تَرَكَ أَهْلُ هَذَا الْمَيِّتِ الْبُكَاءَ لَكَانَ خَيْرًا لِمَيِّتِهِمْ، فَقَالَ سَلَمَةُ بْنُ الْأَزْرَقِ: تَقُولُ ذَلِكَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ؟ قَالَ: نَعَمْ، أَقُولُهُ، قَالَ: إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ وَمَاتَ مَيِّتٌ مِنْ أَهْلِ مَرْوَانَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَقَالَ مَرْوَانُ: قُمْ يَا عَبْدَ الْمَلِكِ! فَانْهَهُنَّ أَنْ يَبْكِينَ، فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: دَعْهُنَّ فَإِنَّهُ مَاتَ مَيِّتٌ مِنْ آلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَاجْتَمَعَ النِّسَاءُ يَبْكِينَ عَلَيْهِ، فَقَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ يَنْهَاهُنَّ وَيَطْرُدُهُنَّ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((دَعْهُنَّ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ! فَإِنَّ الْعَيْنَ دَامِعَةٌ، وَالْفُؤَادُ مُصَابٌ، وَإِنَّ الْعَهْدَ حَدِيثٌ))، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: أَأَثَرْتُهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَاللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

محمد بن عمرو کہتے ہیں: میں بازار میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ بیٹھا ہواتھا، ان کے پہلو میں سلمہ بن ازرق بھی موجود تھے، ایک جنازہ گزرا، اس کے ساتھ لوگ روتے جا رہے تھے، سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر اس میت والے یہ لواحقین رونا ترک کر دیں تو اس میت کے حق میں بہتر ہو گا۔ سلمہ بن ازرق نے کہا: ابو عبد الرحمن! آپ یہ بات کہہ رہے ہیں؟انہوں نے فرمایا: جی ہاں، میں کہہ رہا ہوں۔ سلمہ بن ازرق نے کہا: میں نے سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، جبکہ مروان کے اہل میں سے کوئی فوت ہو گیا تھا، عورتیں جمع ہو کر رونے لگیں، مروان نے کہا: عبد الملک! اٹھو اور جا کر ان عورتوں کو رونے سے منع کرو۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا: انہیں رونے دو، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ایک رشتہ دار فوت ہو گیا تھا، عورتیں جمع ہو کر اس پر رونے لگیں، سیّدناعمر بن خطاب رضی اللہ عنہ انہیں روکنے اور ڈانٹ ڈپٹ کرنے کے لیے اٹھے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ابن خطاب، انہیں چھوڑو، آنکھیں آنسو بہا رہی ہیں، دل غمگین ہیں اور مصیبت کا وقت بھی قریب ہے۔ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے یہ حدیث سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے خود سنی ہے؟اس نے کہا: جی ہاں۔ انھوں نے کہا: کیا وہ اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان کرتے تھے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔یہ سن کر انھوں نے کہا: اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔

وضاحت:
فوائد: … ’’جب واجب ہو جائے گی‘‘ اس سے مراد موت ہے،جیسا کہ سنن اور مؤطا کی مرفوع روایت سے معلوم ہو رہا ہے۔ اس کے معانی دفن بیان کرنا، یہ راوی کا ذاتی فہم ہے، جو کہ صحیح نہیں ہے۔ موت واقع ہو جانے کے کوئی نہ روئے، ظاہر ہے کہ دوسری روایات کی روشنی میں اس سے مراد رونے کی ممنوعہ قسم ہے، جس میں چیخ و پکار ہو یا بلند آواز سے رونا ہو، کیونکہ رونا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے فعلاً بھی ثابت ہے، بلکہ اس کو رحمت قرار دے کر اس کی تعریف کی گئی ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3079
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف لجھالة حال سلمة بن الأزرق أخرجه ابن ماجه: 1587، والنسائي: 4/ 19 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5889، 7691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5889»