الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ الرُّخْصَةِ فِي الْبُكَاءِ مِنْ غَيْرِ نَوْحٍ باب: نوحہ کے بغیر رونے کی رخصت کا بیان
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّ فَاطِمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بَكَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، يَا أَبْتَاهُ إِلَى جِبْرِيلَ أَنْعَاهُ، يَا أَبْتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوسِ مَأْوَاهُسیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر روئیں اور کہا: اے ابا جان! آپ اپنے ربّ کے کتنے قریب ہو گئے ہیں، اے ابا جان! میں جبریل کو آپ کی وفات کی خبر دیتی ہوں۔ اے با جان! جنت الفردوس آپ کا ٹھکانہ ہے۔ سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہمراہ انصاریوں کے ہاں ایک قریب الموت آدمی کے پاس گئے ، اس کے اہل و عیال رو رہے تھے ۔ میں نے کہا : آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی موجودگی میں رو رہے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ان کو چھوڑ دو ، جب تک یہ آدمی ان کے پاس ہے ، ان کو رونے دو ، جب واجب ہو جائے گی تو یہ نہ روئیں ۔‘‘ جابر کہتے ہیں : میں نے یہ حدیث عمر بن حمید قرشی کو سنائی ، انہوں نے پوچھا :’’واجب ہو جائے گی‘‘ کا کیا معنی ہے ؟ کہا : جب اس کو قبر میں داخل کر دیا جائے گا ۔‘‘