حدیث نمبر: 3076
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقِ ثَانٍ مِثْلَهُ) وَزَادَ بَعْدَ قَوْلِهِ: ((فَمِنَ الشَّيْطَانِ)) وَقَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَلَى شَفِيرِ الْقَبْرِ وَفَاطِمَةُ إِلَى جَنْبِهِ تَبْكِي، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَعَلَى آلِهِ وَصَحْبِهِ وَسَلَّمَ يَمْسَحُ عَيْنَ فَاطِمَةَ بِثَوْبِهِ رَحْمَةً لَهَا
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند) اس میں پس وہ شیطان کی طرف سے ہوتا ہے۔ کے بعد یہ اضافہ ہے: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبر کے کنارے بیٹھ گئے اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پہلو میں بیٹھ کر رونے لگیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے ساتھ شفقت کرتے ہوئے ان کی آنکھوں کو اپنے کپڑے سے پونچھنے لگے۔

وضاحت:
فوائد: … آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غصے سے دیکھنا، اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو جنت کی مبارک دے کر ایک غیبی امر پر اطلاع پانے کا دعوی کر رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سمجھانا چاہا کہ بیشک کوئی بندہ نیک ہو سکتا ہے، لیکن جب تک اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ اطلاع نہیں دے گا، اس وقت کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا جائے گا۔صحابہ کا سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں فکر مند ہونا، اس کی وجہ یہ تھی کہ یہ صحابی دوسرے صحابہ کے نزدیک نیک اور صالح فرد تھے، لیکن بعد میں جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی کی وفات پر سیّدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی تعریف کی تو صحابہ مطمئن ہو گئے۔ حدیث میں مذکورہ خواتین کا روناجائز تھا، لیکن سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کو ناجائز سمجھ کر روکنا چاہا، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روکنے سے منع کر دیا۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3076
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 2315، وأخرج بنحوه البخاري: 1303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13014 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3103»