حدیث نمبر: 3075
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: لَمَّا مَاتَ عُثْمَانُ بْنُ مَظْعُونٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَتْ امْرَأَةٌ: هَنِيئًا لَكَ الْجَنَّةُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ! وَفِي رِوَايَةٍ قَالَتْ امْرَأَتُهُ: هَنِيئًا لَكَ يَا بْنَ مَظْعُونٍ! بِالْجَنَّةِ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَيْهَا نَظْرَةَ غَضَبٍ، فَقَالَ: ((وَمَا يُدْرِيكِ؟))، قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَارِسُكَ وَصَاحِبُكَ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ وَمَا أَدْرِي مَا يُفْعَلُ بِي (وَفِي رِوَايَةٍ وَلَا بِهِ)))، فَأَشْفَقَ النَّاسُ عَلَى عُثْمَانَ، فَلَمَّا مَاتَتْ زَيْنَبُ (وَفِي رِوَايَةٍ: رُقَيَّةُ) ابْنَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((الْحَقِي بِسَلَفِنَا الصَّالِحِ الْخَيِّرِ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ))، فَبَكَتِ النِّسَاءُ، فَجَعَلَ عُمَرُ يَضْرِبُهُنَّ بِسَوْطِهِ فَأَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ وَقَالَ: ((مَهْلًا يَا عُمَرُ!))، ثُمَّ قَالَ: ((ابْكِينَ وَإِيَّاكُنَّ وَنَعِيقَ الشَّيْطَانِ))، ثُمَّ قَالَ: ((إِنَّ مَا كَانَ مِنَ الْعَيْنِ وَالْقَلْبِ فَمِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَمِنَ الرَّحْمَةِ، وَمَا كَانَ مِنَ الْيَدِ وَاللِّسَانِ فَمِنَ الشَّيْطَانِ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدناعبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو ایک عورت نے کہا: اے عثمان بن مظعون! آپ کو جنت مبارک ہو۔دوسری روایت میں ہے: ان کی بیوی نے کہا: اے ابن مظعون! آپ کو جنت کی مبارک ہو۔ یہ سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کی طرف غصے سے دیکھا اور فرمایا: ((آپ کو کیسے معلوم ہوا؟)) اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ آپ کے شہ سوار اورصحابی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ کی قسم! میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے گا، جبکہ میں اللہ کا رسول ہوں ۔ ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا ہو گا اور اس کے ساتھ کیا ہو گا۔ یہ سن کر لوگ سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کے بارے میں فکر مند ہو گئے۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی سیدہ زینب یاسیدہ رقیہ رضی اللہ عنہما کا انتقال ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم ہمارے پیش رو صالح اور نیک سیرت فرد عثمان بن مظعون کو جا ملو۔ پس عورتیں رونے لگیں اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں کوڑے سے مارنا شروع کر دیے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: عمر ٹھہر جاؤ۔ پھر فرمایا: روؤ روؤ، البتہ شیطانی چیخ و پکار سے بچنا۔ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو رونا آنکھ اور دل سے ہو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اور جذبۂ رحمت کی بنا پر ہوتا ہے، اور جو ہاتھ اور زبان سے ہو وہ شیطان کی طرف سے ہوتاہے۔

حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3075
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «اسناده ضعيف، لضعف علي بن زيد بن جدعان، ولين يوسف بن مهران أخرجه الطيالسي: 2694، والطبراني: 8317، والحاكم: 3/ 190 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2127، 3103 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2127»