حدیث نمبر: 3074
عَنْ أَسِيدِ بْنِ أَبِي أَسِيدٍ عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْمَيِّتُ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ الْحَيِّ عَلَيْهِ، إِذَا قَالَتِ النَّائِحَةُ وَاعَضُدَاهُ، وَانَا صِرَهُ، وَاكَاسِيَاهُ، جُبِذَ الْمَيِّتُ وَقِيلَ لَهُ: أَنْتَ عَضُدُهَا، أَنْتَ نَاصِرُهَا، أَنْتَ كَاسِيهَا))، فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ! يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وَزْرَ أُخْرَى}، فَقَالَ: وَيْحَكَ أُحَدِّثُكَ عَنْ أَبِي مُوسَى عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَتَقُولُ هَذَا؟ فَأَيُّنَا كَذَبَ؟ فَوَاللَّهِ! مَا كَذَبْتُ عَلَى أَبِي مُوسَى، وَلَا كَذَبَ أَبُو مُوسَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا ابو موسی اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میت کو زندوں کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، جب نوحہ کرنے والی کہتی ہے: ہائے میرے بازو! ہائے میرے مدد گار! ہائے مجھے کپڑے پہنانے والے! تو فرشتے میت کو جھنجوڑتے اور کہتے ہیں:تو اس کا بازو تھا؟ تو اس کا مدد گار تھا؟ تو اس کو کپڑے پہناتا تھا؟ اسید کہتے ہیں: میں نے (تعجب کرتے ہوئے) کہا: سبحان اللہ! اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے: {وَلَا تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ أُخْرٰی} (سورۂ انعام:۱۶۴) یعنی: کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ لیکن موسی بن ابی موسیٰ نے کہا: تو ہلاک ہو جائے، میں تجھے سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ کے واسطے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تو اس طرح کہتا ہے؟ ہم میں سے کس نے جھوٹ بولا؟ اللہ کی قسم! میں نے سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ پر جھوٹ نہیں بولا اور نہ ابو موسی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جھوٹ بولا ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ((یُعَذَّبُ الْمَیِّتُ بِبُکَائِ أَہْلِہِ عَلَیْہِ۔)) یعنی: میت کو اس پر اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس حدیث کو سیّدنا عمر اور ان کے بیٹے سیّدنا عبد اللہ dکی بھول چوک کا نتیجہ قرار دیا، حالانکہ بات اس طرح نہیں ہے۔ دراصل سیدہ کو اس حدیث کا علم نہیں تھا۔ یہی حدیث سیّدنا مغیرہ بن شعبہ اور سیّدنا ابو موسی اشعری dنے بھی بیان کی ہے، یہ کل چار صحابہ ہو گئے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3074
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح لغيره۔ أخرجه الترمذي: 1003، وابن ماجه: 1594، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19954»