الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ باب: گھر والوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کا بیان
عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْأَسْدِيِّ قَالَ: مَاتَ رَجُلٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ فَنِيحَ عَلَيْهِ (وَفِي رِوَايَةٍ إِنَّ أَوَّلَ مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ بِالْكُوفَةِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ) فَخَرَجَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَصَعِدَ الْمِنْبَرَ فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ: مَا بَالُ النَّوْحِ فِي الْإِسْلَامِ، أَمَا إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((إِنَّ كَذِبًا عَلَيَّ لَيْسَ كَكَذِبٍ عَلَى أَحَدٍ، أَلَا وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ))، أَلَا وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ يُنَحْ عَلَيْهِ يُعَذَّبْ بِمَا نِيحَ بِهِ عَلَيْهِ))علی بن ربیعہ اسدی کہتے ہیں: قرظہ بن کعب نامی ایک انصاری آدمی فوت ہو گیا اور اس پر نوحہ کیا جانے لگا، ایک روایت میں ہے کہ کوفہ میں سب سے پہلے قرظہ بن کعب انصاری پر نوحہ کیا گیا، سیّدنامغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ منبر پر تشریف لائے اور اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کرنے کے بعد کہا: اسلام میں نوحہ کا کیا کام؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: مجھ پر جھوٹ بولنا، یہ عام آدمی پر جھوٹ بولنے کی طرح نہیں ہے، خبردار!جس نے جان بوجھ کر مجھ پر جھوٹ بولا، وہ اپنا ٹھکانہ جہنم سے تیار کر لے۔ اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: جس پر نوحہ کیا گیا تو اسے اس وجہ سے عذاب دیا جائے گاکہ اس پر نوحہ کیا گیا۔