حدیث نمبر: 3072
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي ثَنَا إِسْمَاعِيلُ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَنَحْنُ نَنْتَظِرُ جَنَازَةَ أُمِّ أَبَانَ ابْنَةِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَعِنْدَهُ عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، فَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُودُهُ قَائِدُهُ، قَالَ: فَأُرَاهُ أَخْبَرَهُ بِمَكَانِ ابْنِ عُمَرَ، فَجَاءَ حَتَّى جَلَسَ إِلَى جَنْبِي وَكُنْتُ بَيْنَهُمَا، فَإِذَا صَوْتٌ مِنَ الدَّارِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ))، فَأَرْسَلَهَا عَبْدُ اللَّهِ مُرْسَلَةً، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: كُنَّا مَعَ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ إِذَا هُوَ بِرَجُلٍ نَازِلٍ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَالَ لِي: انْطَلِقْ فَاعْلَمْ مَنْ ذَلِكَ، فَانْطَلَقْتُ فَإِذَا هُوَ صُهَيْبٌ، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: إِنَّكَ أَمَرْتَنِي أَنْ أَعْلَمَ لَكَ مَنْ ذَلِكَ، وَإِنَّهُ صُهَيْبٌ، فَقَالَ: مُرُوهُ فَلْيَلْحَقْ بِنَا، فَقُلْتُ: إِنَّ مَعَهُ أَهْلَهُ؟ قَالَ: وَإِنْ كَانَ مَعَهُ أَهْلُهُ، وَرَبَّمَا قَالَ أَيُّوبُ مَرَّةً: فَلْيَلْحَقْ بِنَا، فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمَدِينَةَ لَمْ يَلْبَثْ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ أَنْ أُصِيبَ، فَجَاءَ صُهَيْبٌ فَقَالَ: وَا أَخَاهُ وَا صَاحِبَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَلَمْ تَعْلَمْ أَوْ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْمَيِّتَ لَيُعَذَّبُ بِبَعْضِ بُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ))، فَأَمَّا عَبْدُ اللَّهِ فَأَرْسَلَهَا مُرْسَلَةً وَأَمَّا عُمَرُ فَقَالَ بِبَعْضِ بُكَاءِ، فَأَتَيْتُ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَذَكَرْتُ لَهَا قَوْلَ عُمَرَ، فَقَالَتْ: لَا وَاللَّهِ! مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَحَدٍ وَلَٰكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِنَّ الْكَافِرَ لَيَزِيدُهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَذَابًا، وَإِنَّ اللَّهَ لَهُوَ الَّذِي أَضْحَكَ وَأَبْكَى، {وَلَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وَزْرَ أُخْرَى}، قَالَ أَيُّوبُ: وَقَالَ ابْنُ أَبِي مُلَيْكَةَ: حَدَّثَنِي الْقَاسِمُ، قَالَ: لَمَّا بَلَغَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَوْلُ عُمَرَ وَابْنِ عُمَرَ قَالَتْ: إِنَّكُمْ لَتُحَدِّثُونِي عَنْ غَيْرِ كَاذِبَيْنِ وَلَا مُكَذَّبَيْنِ وَلَٰكِنَّ السَّمْعَ يُخْطِيءُ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

عبد اللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں:میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، ہم سیّدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کی بیٹی ام ابان کے جنازہ کا انتظار کر رہے تھے، وہاں پر عمرو بن عثمان بھی موجود تھے، اتنے میں سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بھی تشریف لے آئے،جبکہ ایک آدمی ان کی رہنمائی کر رہا تھا (کیونکہ وہ نابینا ہو چکے تھے)، میرا خیال ہے کہ اس آدمی نے انہیں سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے متعلق بتلایا، پس وہ آ کر میرے پہلو میں بیٹھ گئے، جبکہ میں ان دونوں کے درمیان آگیا۔ جب گھر سے رونے کی آواز سنائی دی تو سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: میت کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور (یہودی کے ساتھ خاص نہیں کیا)۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم امیر المومنین سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، جب ہم بیداء مقام میں پہنچے تو درخت کے سائے میں ایک آدمی بیٹھا دکھائی دیا، امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: دیکھ کر آؤ، یہ آدمی کون ہے؟ میں نے جا کر دیکھا تو وہ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے واپس آ کر عرض کیا کہ آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ یہ پتہ کرکے آؤں وہ آدمی کون ہے تو وہ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے کہا: ان سے جا کر کہو کہ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ میں نے کہا: ان کے ہمراہ ان کے اہل خانہ بھی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرچہ ان کے ساتھ اہل خانہ بھی ہوں، بس وہ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تھے تو امیر المومنین پر حملہ کر دیا گیا (اور آپ زخمی ہو گئے)۔ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے دوست! یہ سن کر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میت کو اس کے بعض اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔ سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے بعض اہل و عیال کی قید لگائی۔ سیّدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: پھر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث ان کو بیان کی، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طرح نہیں فرمایا کہ میت کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا: بیشک اللہ تعالیٰ کافر کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے مزید عذاب دیتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہنساتا اور رلاتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔ قاسم نے کہا: جب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا تک سیّدنا عمر اور سیّدنا ابن عمر کی بات پہنچی تو انھوں نے کہا: بیشک تم مجھے ایسے لوگوں سے بیان کر رہے ہو جو نہ خود جھوٹے ہیں اور نہ ان کو جھٹلایا گیا ہے، اصل بات یہ ہے کہ سننے میں غلطی ہو جاتی ہے۔

وضاحت:
بیٹھ گئے، جبکہ میں ان دونوںکے درمیان آگیا۔ جب گھر سے رونے کی آواز سنائی دی تو سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: ’’میت کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘ سیّدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور (یہودی کے ساتھ خاص نہیں کیا)۔ یہ سن کر سیّدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا: ہم امیر المومنین سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے، جب ہم بیداء مقام میں پہنچے تو درخت کے سائے میں ایک آدمی بیٹھا دکھائی دیا، امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے مجھ سے کہا: دیکھ کر آئو، یہ آدمی کون ہے؟ میں نے جا کر دیکھا تو وہ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے واپس آ کر عرض کیا کہ آپ نے مجھے حکم دیا تھا کہ یہ پتہ کرکے آئوں وہ آدمی کون ہے تو وہ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ ہیں۔ امیر المومنین رضی اللہ عنہ نے کہا: ان سے جا کر کہو کہ ہمارے ساتھمل جائیں۔ میں نے کہا: ان کے ہمراہ ان کے اہل خانہ بھی ہیں۔آپ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگرچہ ان کے ساتھ اہل خانہ بھی ہوں، بس وہ ہمارے ساتھ مل جائیں۔ جب ہم مدینہ منورہ پہنچے تھے تو امیر المومنین پر حملہ کر دیا گیا (اور آپ زخمی ہو گئے)۔ سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ آئے اور کہا: ہائے میرے بھائی! ہائے میرے دوست! یہ سن کر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ ’’میت کو اس کے بعض اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔‘‘سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے اس حدیث کو مطلق طور پر بیان کیا اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ’’بعض اہل و عیال‘‘ کی قید لگائی۔ سیّدنا ابن عباسd کہتے ہیں: پھر میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا اور سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ کی حدیث ان کو بیان کی، انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح نہیں فرمایا کہ میت کو کسی کے رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو یوں فرمایا تھا: ’’بیشک اللہ تعالیٰ کافر کو اس کے اہل و عیال کے رونے کی وجہ سے مزید عذاب دیتا ہے۔‘‘ اور اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ہنساتا اور رلاتا ہے، ارشادِ باری تعالیٰ ہے: ’’اور کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔‘‘ قاسم نے کہا: جب سید عائشہ رضی اللہ عنہا تک سیّدنا عمر اور سیّدنا ابن عمرeکی بات پہنچی تو انھوں نے کہا: بیشک تم مجھے ایسے لوگوں سے بیان کر رہے ہو جو نہ خود جھوٹ ہیں اور نہ ان کو جھٹلایا گیا ہے، اصل بات یہ ہے کہ سننے میں غلطی ہو جاتی ہے۔‘‘
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3072
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 928، وأخرجه مختصرا البخاري: 1287 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 288، 289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 288»