الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ باب: گھر والوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3070
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَمَّا عَوَّلَتْ عَلَيْهِ حَفْصَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَقَالَ: يَا حَفْصَةُ! أَمَا سَمِعْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((الْمُعَوَّلُ عَلَيْهِ يُعَذَّبُ؟))، قَالَ: وَعَوَّلَ صُهَيْبٌ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا صُهَيْبُ! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الْمُعَوَّلَ عَلَيْهِ يُعَذَّبُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ،سیّدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ پر بلند آواز سے روئیں تو انھوں نے کہا: اے حفصہ! کیا تو نے نہیں سنا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو عذاب دیا جاتا ہے، جس پربلند آواز سے رویا جاتا ہے۔ پھر سیّدنا صہیب رضی اللہ عنہ بلند آواز سے روئے، اس پر سیّدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: صہیب! کیا تم نہیں جانتے کہ جس پر بلند آواز سے رویا جاتا ہے، اس کو عذاب دیا جاتا ہے۔