الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ باب: گھر والوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3067
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((كَانَ الْكَافِرُ مِنْ كُفَّارِ قُرَيْشٍ يَمُوتُ فَيَبْكِيهِ أَهْلُهُ، فَيَقُولُونَ: الْمُطْعِمُ الْجِفَانِ، الْمُقَاتِلُ الَّذِي، فَيَزِيدُهُ اللَّهُ عَذَابًا بِمَا يَقُولُونَ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کفار قریش میں سے جب کوئی کافر مرتا تو اس کے گھر والے اس پر روتے ہوئے کہتے:لوگوں کو بہت کھلانے والا، لڑنے والا جو … ، توان باتوں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کو مزید عذاب دیتا۔
وضاحت:
فوائد: … ’’جَفْنَۃ‘‘ کی جمع ’’جِفَان‘‘ ہے، جس کے معنی بڑے ٹب کے ہیں، جو سردار چربی اور تیل سے بھرا ہوا بڑا ٹب لوگوں کو کھلاتا تھا، عرب اسے کہتے تھے: اَنْتَ الْجَفْنَۃُ الْغََرَّائُ۔ (تم تو سفید ٹب ہو)، سفیدی سے مراد یہ ہے کہ وہ چربی اورتیل سے بھرا ہوا ہوتا تھا۔