الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا جَاءَ فِي أَنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ باب: گھر والوں کے رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیئے جانے کا بیان
حدیث نمبر: 3066
عَنْ أَبِي الرَّبِيعِ قَالَ: كُنْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي جَنَازَةٍ فَسَمِعَ صَوْتَ إِنْسَانٍ يَصِيحُ فَبَعَثَ إِلَيْهِ فَأَسْكَتَهُ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ! لِمَ أَسْكَتَّهُ؟ قَالَ: إِنَّهُ يَتَأَذَّى بِهِ الْمَيِّتُ حَتَّى يَدْخُلَ قَبْرَهُترجمہ:محمد محفوظ اعوان
ابوربیع کہتے ہیں: میں ایک جنازہ میں سیّدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، جب انہوں نے ایک رونے والے کی آواز سنی تو اس کی طرف ایک آدمی کوبھیج کر اسے خاموش کرایا۔ میں نے کہا: اے ابو عبد الرحمن! آپ نے اسے خاموش کیوں کرا دیا ہے؟انھوں نے کہا: جب تک میت کو قبر میں داخل نہ کر دیا جائے تو اسے اس رونے کی وجہ سے عذاب دیا جاتا ہے۔