حدیث نمبر: 3063
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ لَهُ: يَا ابْنَ أُخْتِي، إِنَّ أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ تَعْنِي ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَخْطَأَ سَمْعُهُ؟ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ذَكَرَ رَجُلًا يُعَذَّبُ فِي قَبْرِهِ بِعَمَلِهِ وَأَهْلُهُ يَبْكُونَ عَلَيْهِ وَإِنَّهَا وَاللَّهِ مَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وَزْرَ أُخْرَى
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

(دوسری سند)سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عروہ سے کہا: میرے بھانجے! ابو عبد الرحمن یعنی ابن عمر کو سننے میں غلطی لگی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تو ایک آدمی کا ذکر کیا تھا، جسے اس کے اعمال کے جرم میں عذاب ہو رہا تھا اور اس کے اہل و عیال اس پر رو رہے تھے۔ اللہ کی قسم ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے نفس کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ عائشہ اور سیّدنا ابن عمرeسے مروی دو الگ الگ احادیث ہیں اور دونوں کا مفہوم بھی ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ میت کو اہل میت کے رونے کی وجہ سے عذاب کیوں ہوتا ہے؟ اس کا جواب آگے آ رہا ہے۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3063
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25144»