الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
فَصْلٌ مِنْهُ فِيمَا وَرَدَ مِنَ التَّغْلِيظِ فِي النِّيَاحَةِ وَالنَّائِحَةِ وَالْمُسْتَمِعَةِ باب: نوحہ کرنے، نوحہ کرنے والی اور اسے سننے والی کے حق میں ثابت ہونے والی سختی کا بیان
حدیث نمبر: 3058
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((شُعْبَتَانِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ لَا يَتْرُكُهُمَا النَّاسُ أَبَدًا: النِّيَاحَةُ وَالطَّعْنُ فِي النَّسَبِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دورِ جاہلیت کے دو کام ہیں، لوگ ان کو کبھی بھی نہیں چھوڑیں گے: نوحہ کرنا اور نسب پر طعن کرنا۔
وضاحت:
فوائد: … نسب پر طعن کرنے سے مراد آدمی کا اپنے آپ کو غیر باپ کی طرف منسوب کرنا ہے، یا کسی کو اس کے باپ، ماں یا برادری کی بنا پر طعنہ مارنا کہ وہ تو فلاں کمینے باپ کا بیٹا ہے یا اس کا تعلق تو فلاں گھٹیا برادری سے ہے۔