حدیث نمبر: 3055
عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: لَمَّا مَاتَ أَبُو سَلَمَةَ قُلْتُ: غَرِيبٌ وَمَاتَ بِأَرْضِ غُرْبَةٍ، فَأَفَضْتُ بُكَاءً فَجَاءَتْ امْرَأَةٌ تُرِيدُ أَنْ تُسْعِدَنِي مِنَ الصَّعِيدِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((تُرِيدِينَ أَنْ تُدْخِلِي الشَّيْطَانَ بَيْتًا قَدْ أَخْرَجَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنْهُ))، قَالَتْ: فَلَمْ أَبْكِ عَلَيْهِ
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: جب سیّدنا ابو سلمہ رضی اللہ عنہ کا انتقال ہوا تو میں نے کہا: پردیسی تھا اور پردیس میں فوت ہو گیا، پس میں رو پڑی۔ (مدینہ کی) بالائی بستیوں سے ایک خاتون آئی، اس کا ارادہ تھا کہ (نوحہ کرنے میں) میری مدد کرے گی، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے جس گھر سے شیطان کونکال دیا ہے تم دوبارہ اس کو وہاں داخل کرنا چاہتی ہو۔ پس یہ سن کر میں نہ روئی۔

وضاحت:
فوائد: … سیدہ ابو سلمہ رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ سے تعلق رکھتے تھے اور مدینہ منورہ میں فوت ہو گئے تھے، ان کی اہلیہ پردیس سے یہی کچھ مراد لے رہی ہیں۔
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3055
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «أخرجه مسلم: 922 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26472 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27005»