الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ باب: میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
حدیث نمبر: 3053
عَنْ حَفْصَةَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: كَانَ يَعْنِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَيْنَا فِي الْبَيْعَةِ أَنْ لَا نَنُوحَ فَمَا وَفَتْ امْرَأَةٌ مِنَّا غَيْرَ خَمْسٍ أُمُّ سُلَيْمٍ وَامْرَأَةُ مُعَاذٍ وَابْنَةُ أَبِي سَبْرَةَ، وَامْرَأَةٌ أُخْرَىترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہم سے بیعت لیتے وقت اس بات کا عہد لیا تھا کہ ہم نوحہ بھی نہیں کریں گی۔ ہم میں سے صرف ان پانچ عورتوں نے اس عہد کو پورا کیا تھا: ام سلیم، زوجۂ معاذ، بنت ِ ابو سبرہ اور ایک اور خاتون۔
وضاحت:
فوائد: … پانچویں خاتون سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا خود تھیں۔ ان کی مراد یہ ہے کہ جن عورتوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کی تھی، ان میں سے پانچ نے پوری طرح اس عہد کو نبھایا تھا۔