الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ باب: میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
عَنْ حَفْصَةَ بِنْتِ سِيرِينَ عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: بَايَعْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَ عَلَيْنَا فِيمَا أَخَذَ أَنْ لَا نَنُوحَ، فَقَالَتْ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ: إِنَّ آلَ فُلَانٍ أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَفِيهِمْ مَأْتَمٌ فَلَا أُبَايِعُكَ حَتَّى أُسْعِدَهُمْ كَمَا أَسْعَدُونِي، فَقَالَ: فَكَأَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَافَقَهَا عَلَى ذَلِكَ فَذَهَبَتْ فَأَسْعَدَتْهُمْ ثُمَّ رَجَعَتْ فَبَايَعَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَقَالَتْ أُمُّ عَطِيَّةَ فَمَا وَفَتْ امْرَأَةٌ مِنَّا غَيْرُ تِلْكَ، وَغَيْرِ أُمِّ سُلَيْمٍ بِنْتِ مِلْحَانَسیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جن امور پر ہم سے بیعت لی، ان میں سے ایک چیز یہ تھی کہ ہم نوحہ نہ کریں، لیکن اتنے میں ایک انصاری عورت نے کہا: فلاں خاندان والوں نے دورِ جاہلیت میں نوحہ کے سلسلے میں میرا تعاون کیا، اب ان کے ہاں ایک مرگ ہو چکی ہے، اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت اس وقت تک نہیں کروں گی جب تک ان کے تعاون کی طرح ان کی مدد نہ کر آؤں۔ پس وہ چلی گئی، پھر واپس کر آ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بیعت کی۔ام عطیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں:ہم میں بیعت کرنے والی کسی ایک خاتون نے بھی وفا نہیں کی، ما سوائے اِس عورت اور ام سلیم بنت ملحان کے۔