الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ مَا لَا يَجُوزُ مِنَ الْبُكَاءِ عَلَى الْمَيِّتِ باب: میت پر رونے کی ناجائز صورت کا بیان
حدیث نمبر: 3050
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ مُحْرِزٍ قَالَ: أُغْمِيَ عَلَى أَبِي مُوسَى فَبَكُوا عَلَيْهِ، فَأَفَاقَ فَقَالَ: إِنِّي أَبْرَأُ إِلَيْكُمْ مِمَّنْ بَرِئَ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِمَّنْ حَلَقَ أَوْ خَرَقَ أَوْ سَلَقَترجمہ:محمد محفوظ اعوان
صفوان بن محرز کہتے ہیں:سیّدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ پر بے ہوشی طاری ہوئی، لوگ رونے لگے۔ جب ان کو افاقہ ہوا تو انھوں نے کہا: جس آدمی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے براءت کا اظہار کیا، میں بھی اس سے بری ہوں، یعنی اس سے جو (مصیبت کے وقت) سرمنڈائے یا کپڑے پھاڑے یا بلند آواز سے واویلا کرے۔ (۳۰۵۰) تخریـج: … انظر الحدیث السابق: ۷۰
وضاحت:
فوائد: … صحیح بخاری کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ جب لوگ رو رہے تھے، اس وقت سیّدنا ابو موسی رضی اللہ عنہ میں ان کا ردّ کرنے کی طاقت نہیں تھی، بعد میں جب افاقہ ہوا تو انھوں نے شرعی حکم کی وضاحت کر دی۔