الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ تَسْجِيَةِ الْمَيِّتِ وَالرُّخْصَةِ فِي تَقْبِيلِهِ باب: میت کو ڈھانپنے اور اسے بوسہ دینے کا بیان
حدیث نمبر: 3045
(وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِنَحْوِهِ وَفِيهِ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُقَبِّلُ عُثْمَانَ بْنَ مَظْعُونٍ وَهُوَ مَيِّتٌ قَالَتْ: فَرَأَيْتُ دُمُوعَهُ تَسِيلُ عَلَى خَدَّيْهِ يَعْنِي عُثْمَانَ، قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ وَعَيْنَاهُ تُهْرَاقَانِ أَوْ قَالَ وَهُوَ يَبْكِيترجمہ:محمد محفوظ اعوان
(دوسری سند)میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیّدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کو بوسہ دیا، جب کہ وہ میت تھے، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آنسو عثمان کے رخساروں پر بہہ رہے تھے۔ عبد الرحمن نے کہا: اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی آنکھیں بہہ رہی تھیں، یا کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رو رہے تھے۔
وضاحت:
فوائد: … اس سلسلے میں صرف سیّدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بوسہ دینا ثابت ہے، اہل علم نے کہا ہے کہ چونکہ کسی صحابی نے ان پر انکار نہیں کیا، اس لیے اس کو اجماعِ صحابہ سمجھا جائے گا۔ ویسے بھی یہ ایک معاملہ ہے، نہ کہ عبادت، اس لیے اگر کسی نص میں اس کی نفی نہیں کی گئی تو اس کو جائز ہی سمجھا جائے گا۔