حدیث نمبر: 3041
عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ أَخَاهُ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِرْهَمٍ، وَتَرَكَ عِيَالًا فَأَرَدْتُّ أَنْ أُنْفِقَهَا عَلَى عِيَالِهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ أَخَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ فَاقْضِ عَنْهُ))، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ! فَقَدْ أَدَّيْتُ إِلَّا دِينَارَيْنِ، ادَّعَتْهُمَا امْرَأَةٌ وَلَيْسَ لَهَا بَيِّنَةٌ، قَالَ: ((فَأَعْطِهَا فَإِنَّهَا مُحِقَّةٌ))
ترجمہ:محمد محفوظ اعوان

سیّدنا سعد بن اطول رضی اللہ عنہ کہتے ہیں:ان کے بھائی کا انتقال ہو گیا، وہ تین سو درہم چھوڑ کر فوت ہوا تھا،اس کے اہل و عیال بھی تھے۔ میں نے چاہا کہ یہ رقم ان پر صرف کر دوں۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بھائی کو قرضے کی وجہ سے روک لیا گیا ہے، اس لیے تم اس کی طرف سے قرضہ ادا کر دو۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے اس کا تمام قرض ادا کر دیا ہے، لیکن دو دینار رہتے ہیں، ایک عورت نے ان کے بارے میں دعویٰ کر دیا ہے،لیکن اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے بھی دے دو، کیونکہ وہ حق بات کر رہی ہے۔

وضاحت:
فوائد: … ممکن ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو وحی کے ذریعے اس عورت کے سچا ہونے کا علم ہو گیا ہے۔ اس باب کی احادیث ِ صحیحہ سے معلوم ہوا کہ سب سے پہلے میت کا قرضہ اتارنے کی کوشش کرنی چاہیے، اگر وہ خود کوئی مال چھوڑ کر نہ گیا ہو تو اس کے قبیلے والے یہ ذمہ داری ادا کریں، بصورتِ دیگر عام دوسرے مسلمان۔ وگرنہ اگر ممکن ہوا تو بیت المال سے اس کا قرض ادا کیا جائے گا، کیونکہ فتوحات کے سلسلے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود فوت ہونے والے مقروض مسلمانوں کا قرضہ ادا کرتے تھے۔ ایک اور بڑی اہم بات ہے اور لکھتے ہوئے ڈر بھی لگتا ہے کہ قرض لینے والے اس سے ناجائز فائدہ نہ اٹھا لیں، وہ یہ ہے جس آدمی کا یہ پکاعزم ہو کہ اس نے اپنا قرضہ چکانا ہے اور پھر وہ عملی طور پر کوشش بھی کرتا ہے اور پہلی فرصت میں قسطیں ادا کرنے کا موقع ضائع نہیں جانے دیتا، پھر بھی وہ قرض چکائے بغیر فوت ہو جاتا ہے اور اس کے لواحقین اور بیت المال بھی ادا نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ اس کی ادائیگی کے اسباب پیدا کر کے اس کی نیکیوں کو محفوظ کر لے گا۔ کئی احادیث سے یہ مسئلہ ثابت ہوتا ہے،جیسے سو افراد کے قاتل کی بخشش کے اسباب مہیا کر دیئے گئے۔ لیکن اتنا ضرور ہے کہ ایسے آدمی نے اللہ تعالیٰ کے ہاںجوابدہ ہونا ہے، اس لیے اسے غور کر لینا چاہیے کہ کیا اس کے پاس کوئی معقول عذر ہے۔جلدی نمازِ جنازہ ادا کرنے کے بارے میں سیّدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((أَسْرِعُوْا بِالْجَنَازَۃِ، فَاِنْ تَکُ صَالِحَۃً فَخَیْرٌ تُقَدِّمُوْنَھَا اِلَیْہِ، وَاِنْ تَکُ سِوٰی ذَالِکَ فَشَرٌّ تَضَعُوْنَہٗ عَنْ رِقَابِکُمْ۔)) یعنی: ’’جنازے میں جلدی کرو، پس اگر وہ نیک ہے تو تم اسے خیر کی طرف بھیج رہے ہو اور اگر وہ برا ہے تو وہ تو شرّ ہے جسے تم اپنے کندھوں سے اتار رہے ہو۔‘‘ (بخاری: ۱۳۱۵، مسلم: ۵۰ یا ۹۴۴)
حوالہ حدیث الفتح الربانی / كتاب الجنائز / حدیث: 3041
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف
تخریج حدیث «حديث صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة عبد الملك أبي جعفر أخرجه ابن ماجه: 2433 ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20076 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20336»