الفتح الربانی
كتاب الجنائز— جنازہ کے احکام و مسائل
بَابُ الْمُبَادَرَةِ إِلَى تَجْهِيزِ الْمَيِّتِ وَقَضَاءِ دَيْنِهِ باب: میت کی تجہیز و تکفین اور قرضہ ادا کرنے میں جلدی کرنا
حدیث نمبر: 3039
عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ فَقَالَ: ((مَا هُنَا أَحَدٌ مِنْ بَنِي فُلَانٍ؟)) قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: ((إِنَّ صَاحِبَكُمْ مُحْتَبَسٌ عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ فِي دَيْنٍ عَلَيْهِ))ترجمہ:محمد محفوظ اعوان
سیّدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صبح کی نماز پڑھائی پھر پوچھا: یہاں بنو فلاں کا کوئی آدمی موجود ہے؟ صحابہ نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی کو قرضے کی وجہ سے جنت کے دروازے پر روک دیا گیا ہے۔